Brailvi Books

منتخب حدیثیں
115 - 243
 سے ناواقف ہے۔ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ    ؎
نطقِ خاک و نطقِ آب و نطقِ گل	 ہست محسوس حواس اہل دل
 یعنی مٹی، پانی ،کیچڑکی بولیوں کو بھی اہل دل کے حواس محسوس کرتے اور جان لیتے ہیں  ۔
قبر پر پھول: اس حدیث میں  ’’لَعَلَّہٗ اَنْ یُّخَفَّفَ‘‘یعنی کھجور کی تر شاخوں کو قبر پر ڈالنے کی حکمت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے یہ بتاءی کہ ان گیلی اور ہری ٹہنیوں کی تسبیح سے ان کے عذاب میں  تخفیف ہوگی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر وں پر تازہ پھول اور ہری پتیوں کو ڈالنا ہرگز ہرگز بدعت نہیں  ہے بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کی اسی حدیث پر عمل ہے لہٰذا یہ سنت ہے چنانچہ بخاری شریف میں  ہے کہ حضرت بُرَیدہ اَسْلَمی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے یہ وصیت فرمائییتھی کہ میری قبر میں  دو گیلی ٹہنیاں ڈال دی جایئں  ۔ (1)(بخاری،ج اول،باب الجرید علی القبر)
قبر کے پاس تلاوت : علّامہ خَطَّابی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ جب سبز ٹہنیوں کی تسبیح سے میت کے عذاب میں  تَخْفِیْف ہوجاتی ہے تو قبر کے پاس اگر کوئی مسلمان قرآن مجید کی تلاوت کرے توبدرجہ اَولیٰ اس سے میت کے عذاب میں  تَخْفِیْف ہوگی کیونکہ ظاہر ہے کہ تلاوت قرآن برکت و فضیلت میں  شاخوں اور ٹہنیوں کی تسبیحات سے کہیں  زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے۔ (2) (عینی،ج۱،ص۸۷۰)
ایصال ِثواب:حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  کا یہی مسلک ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کا اجر و ثواب میت کو پہنچتا ہے ۔چنانچہ اس سلسلے میں  بکثرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الجناءز،باب الجرید علی القبر، ج۱، ص۴۵۸
2…عمدۃ القاری،کتاب الوضوء،باب من الکباءر ان لا یستتر من بولہ، تحت الحدیث:۲۱۶، 
           ج۲،ص۵۹۸