ہر قسم کی نجاستوں سے ہر وقت پاک و صاف رہنا چاہئے۔
اسی طرح عذابِ قبر کا سبب بننے میں صرف ’’چغلی ‘‘ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے بلکہ اس قسم کے دوسرے گناہِ کبیرہ مثلًا غیبت ،جھوٹ،ظلم وغیرہ بھی عذاب قبر کا سبب بن سکتے ہیں ، لہٰذا مسلمانوں کو گناہِ کبیرہ کی تمام قسموں سے اجتناب و پرہیز کرنا لازم ہے۔
عالمِ برزَخ کا علم : اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عالم برزخ کے واقعات کو دیکھتے ،سنتے اور جانتے تھے اس لیے کہ ’’عذاب قبر ‘‘عالم برزخ کے احوال میں سے ہے ۔بخاری شریف کی روایت میں ’’ فَسَمِعَ صَوْتَ اِنْسَانَیْنِ یُعَذَّبَانِ ‘‘ کے الفاظ ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ان دونوں قبروں کے مُردوں کے عذاب کا علم وحی کے ذریعے نہیں ہوا تھا بلکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سُن کر اور دیکھ کر عذابِ قبر کا حال معلوم فرمایا تھا۔
اس سے پتہ چلا کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے دیکھنے اور سننے بلکہ ان کی تمام قوتوں کو عام انسانوں کے قُوائے جسمانیہ اور بدنی طاقتوں پر قیاس نہیں کرسکتے۔ ہم عام انسان چیزوں کو اپنے حواس ظاہری یعنی آنکھ ،کان وغیرہ سے دیکھتے سنتے ہیں اور حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی باطنی قوتوں سے دیکھتے سنتے ہیں ۔ اللہ اکبر! کہاں ہمارے ظاہری حواس اور کہاں انبیاء علیہم السلام کی باطنی قوتیں !’’چہ نسبت خاک را با عالم ِپاک‘‘۔
عارِف رومی نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب کہاہے ؎
فلسفی کہ منکر حنانہ است از حواس انبیاء بیگانہ است
یعنی فلسفی جو’’ستون حنانہ ‘‘کے رونے اور اس کی آواز سناءی دینے کے معجزہ سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’فلسفی‘‘انبیاء علیہم السلام کے حواس کی بے پناہ باطنی قوتوں