اس کا اجر و ثواب بہت بڑھ جاتا ہے اسی طرح گناہ صغیرہ یعنی چھوٹے چھوٹے گناہوں کو اگر کوئی بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ کرتا ہے تو وہ گناہِ صغیرہ بھی گناہِ کبیرہ ہوجاتا ہے۔ (1)کیونکہ ہر’’گناہ ِصغیرہ‘‘پر جب اِصرار کیا جائے تو وہ’’ گناہ ِکبیرہ‘‘ بن جاتاہے۔
حضرت شیخ ابو طالب مکی سے منقول ہے کہ گناہِ کبیرہ سترہ ہیں ۔چار وہ ہیں جو دل سے تعلق رکھتے ہیں :{۱} شرک {۲}گناہوں پر اصرار {۳} اللہ عزوجل کی رحمت سے ناامید ہوجانا {۴} اللہ عزوجلکے عذاب سے بے خوف ہوجانا اور چار وہ ہیں جن کا تعلق زبان سے ہے:{۱} جھوٹی گواہی دینا {۲} پاک دامن کو تہمت لگانا {۳} جادو کرنا {۴}حرم کعبہ میں گناہ کرنا اور تین وہ ہیں جن کا تعلق شکم سے ہے: {۱} شراب پینا {۲} یتیم کا مال کھانا {۳}سود کھانا،دو وہ ہیں جن کا تعلق شرمگاہ سے ہے: {۱} زنا {۲} ِلواطت، ایک وہ ہے جس کا تعلق پاؤں سے ہے: {۱} جہاد سے بھاگنا،دو وہ ہیں جو ہاتھ سے تعلق رکھتے ہیں : {۱} خون ناحق {۲} چوری اور ایک وہ ہے جس کا تعلق پورے جسم سے ہے: {۱} والدین کی نافرمانی کرنا۔ (2) (شرح عقاءد و حاشیہ، ص۸۲)
واضح رہے کہ مختلف روایتوں میں جو گناہ کبیرہ کی تعداد بتاءی گئی وہ حصرکے لیے نہیں ہے کہ گناہ کبیرہ سات ہیں یا نو ہی ہیں یا سترہ ہی ہیں بلکہ یہ مثال کے طور پر ہے کہ کسی روایت میں مثال کے طور پر سات کا ذکر آگیا، کسی روایت میں نو کا، کسی روایت میں سترہ کا ورنہ ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا گناہوں کے سوا اور بھی بہت سے گناہ کبیرہ ہیں ۔ مثلًا نماز و روزہ اور حج و زکوۃ کو چھوڑ دینا، ظلم کرنا، ڈاکہ ڈالنا،جھوٹ بولنا، چغلی کھانا، دو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الوضوء،باب من الکباءر ان لا یستتر من بولہ،ج۱،ص۴۹۵
2…حاشیۃ شرح العقاءد النسفیۃ، مبحث الکبیرۃ،ص۱۰۸