Brailvi Books

منتخب حدیثیں
111 - 243
 ’’بَابٌ مِنَ الْکَبَاءرِ اَنْ لَا یَسْتَتِرَ مِنْ بَوْلِہٖ‘‘اس سے امام موصوف کا مقصدیہ ہے کہ پیشاب کے وقت پردہ نہ کرنا اور لوگوں کے سامنے شرم گاہ کھول کر پیشاب کرنا یہ گناہ کبیرہ ہے اور بعض روایتوں میں  ’’لَا یَسْتَتِرُ‘‘کی جگہ ’’لَا یَسْتَنْزِہُ  ‘‘کا لفظ آیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پیشاب سے اپنے بدن اور کپڑوں کو محفوظ نہ رکھنا یہ گناہ کبیرہ ہے کیونکہ اسی حدیث میں  پیشاب سے نہ بچنے والے کو قبر میں  عذاب دیا جانا بیان کیا گیا ہے اس لیے یہ ثابت ہوگیا کہ اپنے بدن اور کپڑوں کو پیشاب سے نہ بچانا گناہ کبیرہ اور باعثِ عذاب ہے۔
گناہِ کبیرہ کون کون ہیں :گناہ ِکبیرہ کون کون اور کتنے ہیں ؟اس میں  اِختلاف ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے جس کو امام بخاری نے روایت کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ گناہِ کبیرہ کی تعداد’’ سات ‘‘ہے اور وہ یہ ہیں :شرک،جادو، خونِ ناحق،  سود خواری، یتیم کا مال کھانا، جہاد ِکفار سے بھاگ جانا، پاک دامن مومن عورتوں کو زِنا کی تہمت لگانا۔ (1) (مشکوٰۃ،باب الکباءر)
	یہ ساتوں گناہ وہ ہیں  جن کے بارے میں  حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے یہ فرمایا کہ سات ہلاک کر دینے والے گناہوں  سے بچو!
         اور حاکم کی روایت میں  گناہ کبیرہ کی تعداد’’نو‘‘ اور بعض روایات میں  اس سے زیادہ تعداد بھی بتاءی گئی ہے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کسی نے کہا کہ کیا گناہِ کبیرہ سات ہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ گناہِ کبیرہ کی تعداد سات سو تک ہے۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ایک چھوٹی سی نیکی کو خلوصِ نیت کے ساتھ اگر کوئی کرے تو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان،باب الکباءر وعلامات النفاق، الحدیث:۵۲، ج۱،ص۳۱