علیہ وآلہ وسلم آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا : اسلیےکہ جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں گی ان دونوں کے عذاب میں تَخْفِیْف ہو جایئں گی۔
حضرت ابن عباس:اس حدیث کے راوِیوں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی ممتاز اور صا حبِ فضیلت صحابی ہیں ۔یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ارجمند ہیں ۔ان کا نام’’ عبداللہ‘‘ ہے ۔یہ دَورِ صحابہ کے سب سے کم عمر مُفَسِّر ہیں ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعا فرمائیی تھی کہ یااللہ! ان کو حکمت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما ۔چنانچہ اسی دعا ء نبوی کا اثر ہے کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے آپ کے علم و فضل کا اِعتراف کیا ۔یہاں تک کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعض مشکل مسائل میں آپ سے مشورہ لیتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ صحابہ کرام میں چھ شخصوں نے بہت زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں اور ان کے نام یہ ہیں :{۱}حضرت عائشہ {۲} حضرت عبداللہ بن عباس {۳}حضرت عبداللہ بن عمر {۴}حضرت ابو ہریرہ {۵} حضرت جابر {۶} حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک ہزار چھ سو ساٹھ حدیثیں مروی ہیں ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر۱۳ یا ۱۴ سال کی تھی۔ (عینی، ج۱،ص۸۳) ستر سال کی عمر میں بمقام ’’طاءف‘‘ ۶۸ھ میں آپ نے وفات پائی۔ حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھاکر مجمعِ عام میں بڑی حسرت کے ساتھ یہ کہا کہ ہائے افسوس !آج اس امت کا مفسر دنیا سے اٹھ گیا۔ (1)(فیوض الباری،ج۱،ص۸۱)
شرحِ حدیث:امام بخاری نے اس حدیث کو اس عنوان کے تحت بیان فرمایا ہے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، ج۱، ص۱۲۸