استدلال کرتے ہوئے مسائل و معارف اور نِکات کو بیان کرنا جائز ہے۔ بلکہ یہ نہایت ہی پسندیدہ طرز اور سلفِ صالحین کا مقدس طریقہ ہے۔
{۴}جھوٹی اور من گھڑت حدیثوں کو محدثین کی اصطلاح میں ’’حدیثِ موضوع ‘‘ کہا جاتاہے اور جھوٹی حدیث گھڑلینے والے کو ’’واضِع الحدیث ‘‘یا’’وَضَّاع الحدیث‘‘ کہتے ہیں ۔
جھوٹی حدیثیں گھڑنے والوں کو سلطانِ اسلام بطور تعزیر کوڑوں کی مار یا قید یا قتل کی سزا دے گا۔فقط۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
عذابِ قبر
حدیث :۱۰
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَیْنِ فَقَالَ: اِنَّھُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ اَمَّا اَحَدُھُمَا فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَاَمَّا الاٰخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ ثُمَّ اَخَذَ جَرِیْدَۃً رَطَبَۃً فَشَقَّھَا بِنِصْفَیْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِیْ کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَۃً قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟فَقَالَ:لَعَلَّہٗ اَن یُّخَفَّفَ عَنْھُمَا مَا لَمْ یَیْبِسَا (1)(مشکوٰۃ،باب آداب الخلاء وبخاری،ج۱،باب من الکباءر ان لا یستترمن بولہ،ص۳۴)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا کہ یقینایہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور کسی ایسے گناہ میں عذاب نہیں دیا جارہا ہے جس سے بچنا بہت زیادہ دشوار ہو ۔ان میں سے ایک تو پیشاب کے وقت پردہ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا ۔پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی اور اس کو چیر کر دو ٹکڑے کئے پھر ہر قبر میں ایک ایک ٹکڑا گاڑدیا ۔صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الطھارۃ،باب آداب الخلاء، الحدیث:۳۳۸، ج۱، ص۸۱