نے فرمایا ہے کہ جو مجھ پر جھوٹ بولے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانابنالے۔(1) (بخاری)
اسی طرح امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تو یہ طریقہ تھا کہ اگر کوئی شخص ان کو کوئی حدیث سناتا اور وہ حدیث ان کے علم میں نہ ہوتی تو آپ اُس شخص سے اُس حدیث پر گواہ طلب فرماتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ تم گواہوں سے ثابت کرو کہ یہ رسول کی حدیث ہے۔ (2)
اسی طرح بعض صحابہ حدیث سنانے والوں سے قسم کھانے کا مطالبہ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تم قسم کھا کر کہو کہ یہ رسول اللہصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے۔
یہ سب کچھ اسی احتیاط کے لیے تھا کہ کوئی شخص اپنی طرف سے گھڑ کر جھوٹی حدیث نہ سنائے اسی طرح حضرات تابعین اور تبع تابعین بلکہ تمام مُعْتَمَد محدثین کا یہی طریقہ تھا کہ حدیثوں کے بیان کرنے میں بے حد احتیاط سے کام لیتے تھے ۔ایک لفظ کے اَدَل بدل کو بھی گوارا نہیں کرسکتے تھے کیونکہ حدیث گھڑ لینے کا کتنا گناہ اورعذاب ہے ۔ اس خوف سے ہر وقت یہ لوگ لَرزَہ بَراَندام رہتے تھے۔
اس لیےزمانہ حال کے علماء و واعِظِین کو بھی لاز م ہے کہ وہ حدیثوں کے بیان کرنے میں پوری پوری احتیاط سے کا م لیں اور جو اصل مضمونِ حدیث ہے اسی کو وعظوں میں بیان کریں اور ہرگز ہرگز اپنی طرف سے حدیث میں کسی لفظ کی کمی بیشی نہ کریں ۔ ہاں البتہ حدیث پیش کرنے کے بعد اس کی توضیح و تشریح کرنا اور الفاظِ حدیث سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،
الحدیث:۱۰۸،ج۱،ص۵۷
2…کتاب تذکرۃ الحفاظ ، الطبقۃ الاولی ، امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ
عنہ ۔۔۔الخ، الجزء الاول، ج۱، ص۱۱