گناہ سے اس قدر ڈرتے تھے کہ جب تک ان کو کسی حدیث کے بارے میں بالکل قطعی اور یقینی علم نہیں ہوجاتا تھا ہرگز ہرگز اس حدیث کو کبھی بھی اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے۔ چنانچہ بخاری شریف میں اسی حدیث کے نیچے ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد ماجدحضرت زُبَیْر بن اَلْعَوَّام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ ابا جان ! میں آپ کواس طرح کثرت سے حدیثیں سناتے ہوئے نہیں دیکھتاجس طرح فلاں فلاں صحابہ حدیثیں سنایاکرتے ہیں تو حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں کبھی کسی موقع پر بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جُداتو نہیں ہوا مگر میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ (1)
حضرت زُبَیْر بن اَلْعَوَّام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ میں اس وعید کے خوف سے حدیثوں کو بیان کرنے میں بہت احتیاط کرتا ہوں اور صرف ان ہی حدیثوں کو سنا تا ہوں جو مجھے اچھی طرح یاد ہیں اور جن کے بارے میں پورے وُثوق اور یقین کے ساتھ میں جانتا ہوں کہ یہ فرمانِ رسول ہیں ۔باقی دوسرے صحابہ جو مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرتے ہیں چونکہ وہ مجھ سے زیادہ حدیثوںکو یاد کئے ہوئے ہیں اس لیے وہ مجھ سے زیادہ تعداد میں حدیثیں سنایا کرتے ہیں ۔
اسی طرح مشہور صحابی حضرت اَنس بن مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی فرمایا کہ مجھ کو زیادہ تعداد میں حدیثیں بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،
الحدیث:۱۰۸،ج۱،ص۵۷