کا کہنا کہ حضور نے فرمایا ہے یہ تمام بڑے بڑے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے اور بلا شبہ اس گناہ کا مُرتَکِب قَہْرِ قَہَّار و غضب ِجَبَّار کا سزاوار، جہنمی اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔
اس کی و جہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جس بات کی نسبت ہو جایئں گی وہ شریعت اور خدا کے دین کا جزو قرار پائے گی۔اس طرح حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنا خدا پر بھی جھوٹی تہمت لگانا ہو جایئں گااور ظاہر ہے کہ اللہ و رسول پر اِفتراء کرنا اور جھوٹی تہمت لگانا کتنا بڑا اور کس قدر خوفناک گناہ ہے اسیلیےایسے مردود اور خبیث شخص کا ٹھکانہ جہنم کے سوا اور کہاں ہوگا ۔اسیلیےحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر کوئی جھوٹ بولے یعنی میری نہ کہی ہوئی بات کو خواہ مخواہ میری طرف مَنْسوب کرے اور کہے کہ اس بات کو حضور نے فرمایا ہے تو وہ جہنم میں جائے گا ۔
فوائد و مسائل:{۱}اس حدیث کو مسلم نے اپنے مقدمۂ کتاب میں ، ترمذی نے کتاب العلم اور مناقب میں اور ابن ماجہ نے نیت میں ذکر کیا ہے ۔
{۲}اس حدیث کی بعض روایتوں میں مُتَعَّمِدًا کا لفظ بھی آیا ہے یعنی قصداً اور جان بوجھ کر جو حضور پر جھوٹ بولے گا وہ جہنمی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر بھول چوک میں غلطی سے کسی نے ایسا کیا تو وہ اس وعید کا مستحق نہیں ہوگا۔
{۳}حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا گناہ کسی دوسرے آدمی پر جھوٹ باندھنے سے بدَرْجہا بڑھ کربڑا گناہ ہے ۔اسیلیےحضرات صحابہ کرام اس