بعد غسل دینے والوں اور دوسرے حاضرین کا بیان ہے کہ جب تک ان دونوں کو غسل دیا جاتا رہا یہ دونوں برابر لگاتار مسکرا مسکراکر ہنستے رہے ۔ربعی بن حراش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ۱۰۱ھ یا ۱۰۴ھ میں ہوئی۔ (1)(نووی وتہذیب التہذیب)
حضرت علی:حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل الشان صحابی اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ چہارم ہیں۔بچوں میں سے سب سے پہلے آپ ایمان لائے ۔مدینہ ہجرت کی۔جنگ ِتَبوک کے سوا تمام غَزَوات میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ِجہاد رہے۔جنگ ِخیبر کے دن آپ ہی کے ہاتھ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جھنڈا عطا فرمایا اور آپ ہی نے خیبر کو فتح فرمایا ۔
امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد آپ خلیفہ ہوئے۔ تقریبًا پانچ برس تک خلافت کے فراءض انجام دیتے رہے ۔تریسٹھ سال کی عمر پاکر کوفہ میں ۱۹ رمضان ۴۰ھ کو اِبن ِمُلْجِم خارجی کی زہر آلود تلوار سے آپ کی شہادت ہوئی۔ آپ نے پانچ سو چھیاسی حدیثیں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں ۔ آپ کے فضاءل و مناقب بہت زیادہ ہیں ۔مُفَصَّل تَذکرہ ہماری کتاب حقانی تقریریں میں پڑھئے۔
شرحِ حدیث:اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو خود جھوٹ بولنا یا کسی دوسرے کی طرف جھوٹ کی نسبت کردینا کہ اس نے وہ بات نہیں کہی ہے مگر خواہ مخواہ اس بات کو اس کے سر تھوپ دیناہر جگہ ،ہر حال میں ہر شخص کےلیےحرام و ناجائزاور گناہ کبیرہ ہے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرنا یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جس بات کو نہیں فرمایا اس بات کے بارے میں جھوٹ موٹ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،
الحدیث:۱۰۷،ج۱،ص۵۷