زندگی کو بھی حضور ِاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قابل ِرشک نہیں فرمایا ہے۔
لہٰذا پتہ چلا کہ علماء ِدین کی مقدس زندگی ساری دنیا کے لئے قابل ِرشک ہے اور جب علماء ِکرام کی زندگی قابل رشک زندگی ہے تو پھر علماء کرام کے لئے احساسِ کمتری کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔علماء ِحق بلاشبہ خدا کی زمین پر چمکتے ہوئے چراغ ہدایت ہیں ۔ خداوند ِکریم نے ان کو اپنے ’’خیرِعظیم‘‘ کے ساتھ نوازا ہے اسی لئے زمین پر درندے، چرندے ، پرندے ،چیونٹیاں اپنے بلوں میں ،مچھلیاں دریاؤں میں ان کیلئے دعائے رحمت کو اپنا وظیفہ بنائے ہوئے ہیں ۔فرشتوں کی مقدس جماعت ان طالبان علم دین کی رضا جوئی کے لئے اپنے پَر بچھا دیتی ہے۔سبحان اللہ ،سبحان اللہ ! جب خالق ِکائنات کا فضل و کرم اور کائناتِ عالم کی دعائیں ،ملائکہ کے بچھے ہوئے پَر، علماء ِدین کا اعزاز بڑھا رہے ہیں تو اگر چند مردار قسم کے دنیا دارعلماء ِرَبَّانِیِّیْن کو حَقارَت کی نظر سے دیکھیں تو اس کا کیا غم ہے جو لوگ آج علماء کرام کو حَقارَت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے مقدس رسولوں کے فرمانوں سے منہ موڑ لیا ہے اور دنیا کی دولت پر مغرور ہوکر اور اللہ کے نیک بندوں کی تَحْقِیر وتَذْلِیْل کرکے اپنی آخرت کو خراب کر رہے ہیں ۔
علماء ِحق کو لاز م ہے کہ ان مغرور و بد خصال جہال کی اِیذا رَسانِیوں پر صبر کریں اور ہرگز ہرگز دل شکستہ ہو کر اِعْلاء ِکَلِمۃُ الْحَق کے مَنْصَب ِجَلِیل سے الگ نہ ہوں ۔ خداوند ِ قدوس نے اپنے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ حکم دیا ہے کہ
خُذِ الْعَفْوَ وَاۡمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾ (1) (o)
یعنی اے محبوب! آپ لوگوں کی خطاؤں کو معاف فرما دیں اور نیکی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے اعراض کرتے رہیں ۔