Brailvi Books

منتخب حدیثیں
102 - 243
بھلائی کا خداوندتعالیٰ اراد ہ فرماتاہے اس کو علم دین عطا فرماتا ہے۔‘‘اور اگر یہ تَنْکِیر  تعظیم کیلئے مانی جائے تو اس حدیث کا مطلب یہ  ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر ِعظیم اور بہت بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اُس کو علم ِدین عنایت فرماتا ہے۔
	بہر حال اس حدیث سے علماءِ حق کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اور رحمت ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان میں  علماءِ حق کے لئے بہت بڑی بشارت اور تسکین ِقلب کا سامان بھی ہے اور وہ یہ کہ جب اللہ عزوجل نے علماء دین کے ساتھ ایک خاص قسم کی بھلائی یا بہت بڑی بھلائی کا ارادہ فرمالیا ہے تو پھر کسی انسان یا شیطان کا شر خداکے خیر پر کبھی بھی اور کہیں  بھی غالب نہیں  ہوسکتاہے۔اس لئے ثابت ہوگیا کہ علماء دین کے ساتھ شر اور برائی کا برتاؤ کرنے والا کبھی ہرگز ہرگز فلاح نہیں  پاسکتا۔   ؎
علم دیں  ہے شمع حق اس کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹاسکتا ہے کون
	لہٰذا علما ء کرام کو لاز م ہے کہ وہ کبھی بھی احسا س کمتری میں  نہ مبتلا ہوں  اور گریجویٹوں اور دولت مندوں کے سامنے کبھی ہرگز ہرگز مرعوب نہ ہوں  اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے اس ارشاد پر نظر رکھیں  اور ایک دوسری حدیث بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں  ۔خدا کے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کا فرمان ہے کہ 
	رشک کے قابل فَقَط دو ہی آدمیوں کی زندگی ہے ایک تو وہ مالدار جو خدا کی راہ میں  اپنا مال خرچ کرتا ہے ۔دوسرا وہ عالِم جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت (علم ِدین ) عطا فرمایا اور وہ اس سے فیصلہ کرتا ہے اور دوسروں کو علم سکھاتاہے۔ (1) (مشکوٰۃ،کتاب العلم)
	دیکھ لیجئے کہ مالدار سخی اور عالم دین کی زندگی کے سواکسی امیر ، وزیر یابادشاہ کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب العلم،الفصل الاوّل، الحدیث:۲۰۲، ج۱، ص۵۹