Brailvi Books

منتخب حدیثیں
101 - 243
مسائل جن کا تعلق اعتقاد کے بعد عمل سے بھی ہے جیسے نماز و روزہ اور حج وزکوۃ وغیرہ۔ پہلی قسم یعنی اَحکام ِ شَرْعِیَّہ اِعْتِقادِیَّہ کے جاننے کو ’’علم ِکلام‘‘کہتے ہیں اور دوسری قسم یعنی اَحکام ِشَرْعِیَّہ عَمَلِیَّہ کے جاننے کا نام ’’علم ِفقہ‘‘ہے ۔اس حدیث میں  فقہ کے لغوی معنی مراد ہی ۔ ’’ یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ‘‘ کے معنی یہ ہیں  کہ اللہ تعالیٰ اس کو دین کا فہم یعنی دین کو سمجھنے کا علم عطا فرماتا ہے۔
{۲} اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْکے دونوں جملوں میں  اہل علم کو غور کرنا چاہئے کہ ’’قَاسِمٌ اور یُعْطِیْ‘‘ دونوں کا مَفْعول مَحْذوف کیا ہے یعنی رسول کن کن چیزوں کو بانٹتے ہیں اور اللہ کون کون سی چیزیں  عطا فرماتا ہے۔اس حدیث میں  اس کا ذکر نہیں  ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ مَفْعول مَحْذوف کیا ہے؟اس سوال کو حل کرنا ہے تو اس میں  تو کوئی شک و شبہ نہیں  کہ ’’ یُعْطِیْ‘‘ کا مفعول یقینا  ’’ کُلَّ شَیْیٍٔ‘‘ہے یعنی اللہ  تعالیٰ ہر ہر چیز کا دینے والا ہے ۔تو ظاہر ہے کہ جو ’’یُعْطِیْ‘‘ کا مَفْعول  ہوگا وہی ’’قَاسِمٌ‘‘ کا مَفْعول  ہوگا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس حدیث کا صاف صاف حاصل مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ہر چیز کا دینے والا ہے اور میں  اللہ کی دی ہوئی ہر ہر چیز کا تقسیم کرنے والا ہوں ۔
     اس لئے معلوم ہوا کہ اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں اور دولتوں میں  سے کوئی نعمت اور کوئی دولت کسی کو بغیر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے وسیلہ کے نہیں  مل سکتی۔سبحان اللہ   ؎
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے  	حاشا! غلط، غلط، یہ ہَوَس بے بَصَر کی ہے
{۳}اس حدیث میں  مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا کے جملہ میں  لفظ ’’خَیْرًا‘‘ نکرہ ہے اور اس کی ِتنکِیر یا تونوع کے لئے ہے یا تعظیم کے لئے ۔ اگر اس ِتنکِیرکو  نوع کے لئے مانا جائے تو حدیث شریف کا یہ مطلب  ہوگا کہ’’جس شخص کے ساتھ ایک خاص قسم کے خیر اور