جس شخص کو دین میں ’’فَقِیْہ ‘‘بناتا ہے یعنی اس کو اتنا علم عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنی علمی بصیرت سے دین کو ایمانی مَعْرِفت کے ساتھ سمجھنے لگتا ہے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہئے بلکہ یقین کرلینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے ساتھ بھلائی فرمانے کا ارادہ فرمالیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنے اور خیر عطا فرمانے کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کا علم اور دین کو سمجھنے کافہم عطا فرماتاہے۔
اس حدیث کا دوسرا جُزْوْ یہ ہے کہ میں خدا کی نعمتوں کو تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ نعمتوں کا عطا فرمانے والا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام نعمتوں کی تقسیم میرے سپرد فرمائیی ہے اس لئے میرے وسیلہ اور واسطے کے بغیر کسی کو خدا کی کوئی نعمت نہیں مل سکتی۔
اس حدیث کا تیسراجُزْوْیہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک غیب کی خبر دے رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں ہر دور کے اندر ایک جماعت ایسی ضرور رہے گی جو ہمیشہ اور ہر حال میں دین پر پوری اِسْتِقامت کے ساتھ قائم رہے گی اور اس کے مخالفین لاکھ اس کو نقصان پہنچانا چاہیں مگر ان لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور ہزاروں ظلم وجَور کے باوجود بال برابر بھی اس جماعت کو صراط مستقیم سے نہ ہٹاسکیں گے۔
فوائد و مسائل:{۱}’’فِقہ‘‘کے دو معنی آتے ہیں ،ایک لغوی ،دوسرے اصطلاحی، فقہ کے لغوی معنی ’’فہم ،علم،سمجھ‘‘ہیں اور اصطلاحی معنی کی تفصیل یہ ہے کہ احکام ِشریعت کی دو قسمیں ہیں ، اول اَحکام ِ شَرْعِیَّہ اِعْتِقادِیَّہ یعنی وہ مسائل جن کا تعلق صرف عقائد سے ہے جیسے توحید و رسالت اور قیامت وغیر ہ پر ایمان لانا۔ دوم اَحکام ِشَرْعِیَّہ عَمَلِیَّہ یعنی وہ