باب:16
عداوتِ شیطان
ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ علما اور صلحا سے محبت رکھے، اُن کی محفلوں میں بیٹھتا رہے، جو کچھ نہ جانتا ہو وہ اُن سے پوچھتا رہے، اُن کی نصائح سے بہر اَندوز ہوتا رہے برے کاموں سے گریزاں رہے اور شیطان کو اپنا دشمن سمجھے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ (1)بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی بناؤ(یعنی اللہ کی عبادت کر کے)۔
یعنی اللہتعالیٰ کی عبادت کر کے اس سے دشمنی رکھو اور اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی میں اس کی پیروی نہ کرو اور صدقِ دل سے ہمیشہ اپنے عقائد و اعمال کا اس سے تحفظ کرو، جب تم کوئی کام کرو تو اچھی طرح سمجھ لو کیونکہ بسا اَوقات اَعمال میں رِیا داخل ہوجاتا ہے اور برائیاں اچھی نظر آتی ہیں ، یہ سب شیطان کی وجہ سے ہوتا ہے لہٰذا اس کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرتے رہو۔
حضرتِ عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہ کہتے ہیں : حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر آپ نے اُس لکیر کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ شیطان کے راستے ہیں جن کے لئے وہ لوگوں کو بلاتا رہتا ہے اور آپ نے یہ آیۂ کریمہ تلاوت کی:
وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسْتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنۡ سَبِیۡلِہٖؕ (2)
حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ہمارے لئے شیطان کے کثیر راستوں کو بیان فرمایا (تاکہ ہم اس کے فریب میں نہ آئیں )۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، تو تم بھی اسے دشمن سمجھو۔ (پ۲۲،فاطر:۶)
2…ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اَور راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی۔ (پ۸،الانعام:۱۵۳) …مسند احمد ، مسند عبداللہ بن مسعود، ۲/۱۳۲، الحدیث ۴۱۴۲