گیا تووہ جب تک زندہ رہے گا اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے۔ (1)
حضرتِ حسن بصری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہکہتے ہیں ؛ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میری امت میں سب سے افضل شہید وہ شخص ہے جو ظالم حاکم کے پاس گیا، اسے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اسی وجہ سے اسے قتل کردیا گیا، ایسے شہید کا ٹھکانہ جنت میں حضرتِ حمزہ اور حضرتِ جعفر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کے درمیان ہوگا۔(2)
اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ یوشع بن نون عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی کہ میں تمہاری امت کے چالیس ہزار نیکوں اور ساٹھ ہزار بُروں کو ہلاک کرنیوالا ہوں ۔ حضرت یوشع عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی:نیکوں کا کیا قصور ہے؟ ربّ نے فرمایا: انہوں نے میرے دشمنوں کو دشمن نہیں سمجھا اور یہ باہم میل ملاپ سے رہتے رہے۔
حضرتِ اَنس رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں ہم نے کہا :یا رسول اللہ ! کیا ہمیں نیکی کا، اس وقت حکم کرنا چاہئے جب ہم مکمل طور پر نیکیوں پر عمل کریں اور برائیوں سے اس وقت روکنا چاہئے جب ہم مکمل طور پر برائیوں سے کنارہ کش ہوجائیں ؟ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: تم نیکیوں کا حکم دیتے رہو اگرچہ تم مکمل طور پر عمل نہ کر سکو تم برائیوں سے روکتے رہو اگرچہ تم بتمام و کمال اس سے کنارہ کش نہ ہوس کے ہو۔(3)
ایک صالح شخص نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ جب تم میں سے کوئی نیکی کا حکم دینا چاہے تو اسے چاہئے کہ اپنے نفس کو صبر کا عادی بنائے اور اللہ سے ثواب کی اُمید رکھے کیونکہ جو شخص اللہ پر اِعتماد کرتا ہے وہ کبھی تکالیف میں مبتلا نہیں ہوتا۔
٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند البزار،۴/۱۱۰، الحدیث ۱۲۸۵ و مسند الشامیین للطبرانی، ۴/۳۵۶، الحدیث ۳۵۴۱ و بریقۃ محمودیۃ فی شرح طریقۃ محمدیۃ ،۳ /۲۵۰
2…جامع الاحادیث، ۲/۶۷، الحدیث ۳۹۴۱، ملخصًا
3…المعجم الاوسط ، ۵/۷۷، الحدیث ۶۶۲۸