Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
97 - 676
صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پوچھا حضور وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ نیکی کا حکم کرنے والے، برائیوں سے روکنے والے، اللہ کے لئے دشمنی اور اللہ کے لئے محبت کرنے والے ہیں ۔ 
	پھر فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، ایسا شخص جنت میں تمام بالا خانوں سے اوپر، یہاں تک کہ شہداء کے بالا خانوں سے بھی اوپر ایک بالاخانے میں ہوگاہر بالا خانے کے تین دروازے ہوں گے، یاقوت اور سبز زمرد کے ،ہر دروازے پر روشنی ہوگی۔ تین سو پاکدامن حوروں سے ان کی شادی کی جائے گی، جب وہ کسی ایک حور کی طرف متوجہ ہوگا، وہ کہے گی: تمہیں وہ دن یاد ہے جب تم نے نیکی کا حکم دیا تھا اور بُرائی سے روکا تھا؟ دوسری کہے گی :آپ کو وہ جگہ یاد ہے جہاں آپ نے نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کیا تھا؟ (1)
	روایت ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا: تم نے کبھی میرے لئے بھی عمل کیا ہے؟ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا: یااللہ! میں نے تیرے لئے نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے، صدقات دیئے، تیرے آگے سجدے کئے، تیری حمد کی، تیری کتاب کو پڑھا اور تیرا ذکر کرتا رہا۔
	 رب تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! نماز تیری دلیل، روزہ تیرے لئے ڈھال، صدقہ تیرے لئے سایہ، تسبیح تیرے لئے جنت میں درخت، کتاب کی قرأت تیرے لئے جنت میں حوروقصور اور میرا ذکر تیرا نور ہے۔ بتاتو نے میرے لئے کیا عمل کیا ہے؟ 
	موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اے ربِ ذوالجلال! مجھے بتا! وہ کونسا عمل ہے جو میں تیرے لئے کروں ؟ رب نے فرمایا: تو نے کبھی میری وجہ سے کسی سے محبت کی؟ تو نے میری وجہ سے کبھی کسی سے دشمنی رکھی؟ تب موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سمجھ گئے کہ سب سے اچھا عمل اللہ کے لئے محبت اور اللہ کے لئے دشمنی (2)رکھنا ہے۔ 
	حضرتِ ابوعبیدہ بن الجراح رَضِیَ اللہُ  عَنْہ کہتے ہیں :میں نے سرکار ِرسالت مآب صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ  وَسَلَّم سے پوچھا: یارسول اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) اللہ کی بارگاہ میں کون سے شہید کی زیادہ  عزت ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو ان جو ظالم حاکم کے سامنے گیا اور اسے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اسی پاداش میں اسے قتل کر دیا گیا اور اگر اسے قتل نہیں کیا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین، ۲/۳۸۲ و طبقات الشافیۃ الکبری، ۶/۳۲۱
2… اللہ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے دوست سے دوستی اور ان کے گستاخ سے دشمنی بہترین عمل ہے۔