Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
96 - 676
	اس آیت میں اللہ نے مومنوں کی یہ صفت بیان کی وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں ۔ اب جو نیکی کا حکم دینا بند کردے وہ اس ممدوح جماعت میں سے نہیں ہیں اور اللہ تَعَالٰی نے ان قوموں کی مذمت کی ہے جنہوں نے امربالمعروف کو چھوڑ دیا تھا چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوْنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾ (1)
	حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے انہوں نے کہا:نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا،نہیں تو اللہ تَعَالٰی تم پر ایسا حاکم مقرر کردیگا جو تمہارے بزرگوں کا احترام نہیں کرے گا، تمہارے بچوں پر رحم نہیں کرے گا، تمہارے بڑے بلائیں گے لیکن انکی بات نہیں مانی جائے گی، وہ مدد گار طلب کریں گے مگر ان کی مدد نہیں کی جائیگی اور وہ بخشش طلب کریں گے مگر انہیں نہیں بخشا جائے گا۔(2)
	ام المؤمنین حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ  عَنْہا سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی نے قریہ والوں پر عذاب بھیجا، ان میں اسّی ہزار ایسے بھی تھے جنہوں نے انبیاء کی طرح نیک عمل کئے تھے، پوچھا گیا: یہ کیسے ہوا؟ آپ نے فرمایا: وہ اللہ کے لئے (اللہ کی نافرمانی کے سلسلہ میں ) کسی کو بُرا نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی وہ نیکی کا حکم دیتے اور برائیوں سے روکتے تھے۔(3)
زمین پر شہداء سے بلند مرتبہ مجاہدین
	   حضرتِ ابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے دریافت کیا: مشرکین سے لڑنے کے علاوہ کوئی اور بھی جہاد ہے؟ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ہاں اے ابوبکر! اللہ کی زمین پر ایسے مجاہدین رہتے ہیں جو شہداء سے افضل ہیں ، زمین پر چلتے پھرتے ہیں ، رزق پاتے ہیں اللہ تَعَالٰی ملائکہ میں ان پر فخر کرتا ہے، ان کے لئے جنت سنواری جاتی ہے جیسے امِ سلمہ کو نبی(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے لئے سنوارا گیا۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے، ضرور بہت ہی بُرے کام کرتے تھے۔ (پ۶،المائدۃ،۷۹)
2…الکشف والبیان ، ۳/۱۲۳ و بریقۃ محمودیۃ فی شرح طریقۃ محمدیۃ ،۳/۲۴۸
3…تفسیر روح البیان، اٰل عمران تحت الآیۃ:۱۰۴، ۲/۷۴ وطبقات الشافیۃ الکبری للسبکی، ۶/۳۲۱