ایک حدیث شریف میں ارشاد ہوا: جس نے کسی خلافِ سنت بات پیدا کرنے والے کو جھڑک دیا اللہ تَعَالٰی اس کے دل کو ایمان و اطمینان سے بھردے گا اور جو ایسے شخص کی توہین (1) کرتا ہے اللہ تَعَالٰی اسے قیامت کے دن بے خوف کردے گا اور جس نے نیکی کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا وہ زمین پر اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا خلیفہ ہے۔(2)
حضرتِ حذیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: عنقریب ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ لوگوں کو نیکی کا حکم دینے والے اور برائیوں سے روکنے والے مومن سے، گدھے کا لاشہ زیادہ پسندیدہ ہوگا۔
حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا: اے ربّ! اس شخص کا’’ بدلہ‘‘ کیا ہوگا جس (3)نے اپنے بھائی کو بلایا، اسے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا؟ ربّ نے فرمایا: اس کے ہر کلمہ کے بدلے سال کی عبادت لکھ دی جاتی ہے اور میری رحمت کو اسے جہنم میں جلاتے ہوئے شرم آتی ہے۔
حدیث قدسی ہے: رب تعالیٰ فرماتا ہے: اے انسان! اس جیسا نہ بن جو توبہ میں تاخیر کرتا ہے، امیدیں طویل رکھتا ہے اور بغیر کسی عمل کے آخرت کی طرف لوٹتا ہے، باتیں نیکوں کی کرتا ہے،عمل منافقوں جیساکرتاہے،اگراسے دیا جائے تو قناعت نہیں کرتا، اگر نہ دیا جائے تو صبر نہیں کرتا، وہ دوسروں کو برائیوں سے روکتا ہے مگر خود نہیں رُکتا۔ (4)
اخیر زمانے کے بارے میں حضور کا ارشاد
اس جگہ ایک حدیث بیان کرنا مناسب ہے، حدیث بیان کرنے سے پہلے اس کے راوی حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا ہے کہ قسم خدا کی !آسمان پر سے گرنا میرے واسطے آسان ہے لیکن حضور کی طرف سے کوئی جھوٹی بات منسوب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مذہب میں بدعتی وہ شخص ہے جو نئے مذہب کا بانی یا پیرو ہو، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی توہین خود کرے یا توہین کرنیوالوں کا پیرو ہو، اسی طرح دیگر گمراہیوں کا بانی ہو یا پیرو ہو۔
2…یہ کام علماء اور اہلِ علم کا ہے جاہل کا نہیں۔…کنز العمال،کتاب الاخلاق۔۔۔الخ ، قسم الاقوال۔۔۔الخ ، ۲/۳۸، الجزء الثالث، الحدیث ۵۵۹۶ و حلیۃ الاولیاء ، ۸/۲۱۷(۱۱۹۲۹) و مسند الشہاب ، ۱/۳۱۸ و فردوس الاخبار ، ۲/۲۹۸، الحدیث ۶۲۴۳
3…مسلمان ہونا شرط ہے۔
4…کنز العمال،کتاب المواعظ والرقائق۔۔۔الخ، قسم الاقوال۔۔۔الخ، ۸/۸۶، الجزء السادس عشر، الحدیث:۴۴۲۲۲ و فیہ ہذا قول علی رضی اللہ عنہ