میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ امت اسلامیہ کی فضیلت اس لئے ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں اور اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، اگر وہ اس راستے سے ہٹ جائیں تو ان کی فضیلت باقی نہیں رہے گی، وہ کافروں سے جہاد کرتے ہیں تاکہ وہ اسلام لے آئیں ، اس لئے انہیں غیروں پر ترجیح دی گئی، فرمانِ نبوی ہے: ’’بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے اور بدترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔(1)
’’تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ‘‘وہ اللہ کی توحید کی تصدیق کرتے ہیں اور اس پر ثابت قدم رہتے ہیں اور محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں کیونکہ جس نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی نبوت کو نہ مانا، اس نے اللہ تَعَالٰی کو نہیں مانا، اس لئے کہ وہ حضور کو عطا کردہ معجزہ بیاں آیات کو اللہ کی طرف سے نہیں سمجھتا ہے۔
فرمانِ نبوی ہے: تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے چاہئے کہ قوتِ بازو سے مٹادے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر یہ بھی نہ کرس کے تو اسے دل میں بُرا سمجھے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔‘‘(2) یعنی یہ ایمان والوں کا کمزور ترین فعل ہے۔
بعض نے یہ کہا ہے: ہاتھوں سے برائی کا ختم کرنا حاکموں کے لئے، زبان سے برائی کے خلاف جہاد کرنا علماء کے لئے اور دل میں بُرا سمجھنا عوام کے لئے ہے۔
بعض کا قول ہے: جو شخص جس قوت کا مالک ہو اسے وہی قوت اس کے مٹانے میں صرف کرنی چاہئے اور برائی کو مٹانا چاہئے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪ (3)
یہاں ’’ تَعَاوَنُوْا ‘‘سے مراد نیکی کی ترغیب دینا، نیکی کے راستوں کو آسان کرنا اور شرو فساد کو حسبِ طاقت بند کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنز العمال ،کتاب المواعظ والرقائق۔۔۔الخ ، قسم الاقوال۔۔۔الخ، ۸/۵۴، الجزء السادس عشر، الحدیث ۴۴۱۴۷ والموطاء لامام مالک ، ۲/۴۰۴ ، الحدیث۱۷۱۹
2…مسلم ، کتاب الایمان، باب بیان کون النہی عن ۔۔۔الخ، ص ۴۴، الحدیث ۷۸۔ (۴۹)
3…ترجمۂکنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(پ۶،المائدۃ:۲)