Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
92 - 676
باب:15
اَمْر بِا لْمَعْرُوْف و نَہْی عَنِ الْمُنْکَر
(نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم)
	حضرتِ اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں : حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جب کو ئی بندہ مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کی سانسوں سے ایک سفید بادل پیدا کرتا ہے، پھر اس بادل کو بحر رحمت سے استفادہ کرنے کا حکم ملتا ہے، اس کے بعد اسے برسنے کا حکم ملتا ہے، اس کا جو قطرہ زمین پر پڑتا ہے اس سے اللہ تَعَالٰی سونا، جو پہاڑوں پر پڑتا ہے اس سے چاندی پیدا کرتا ہے اور جو قطرہ کسی کافر پر پڑتا ہے اسے ایمان کی دولت عطا ہوتی ہے۔(1)
	فرمانِ الٰہی ہے:
کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَتُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ ؕ (2)
	حضرت کلبی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہکا قول ہے کہ اس آیت میں امتِ محمد صَلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی تمام دوسری امتوں پر فضیلت کا بیان ہے اور امت اسلامیہ علی الاطلاق تمام امم سے بہتر ہے اور دیگر امتوں کی بہ نسبت اس کی ابتداء و انتہاء دونوں بہتر ہیں اگرچہ ذاتی طور پر کچھ ہستیاں بہت زیادہ فضیلت و کمال کی مالک تھیں جیسے صحابہ کرام رِضْوَانُاللہ عَلَیِہمْ اَجْمَعِیْنَ کے متعلق احادیث موجود ہیں ۔ 
	اُخْرِجَتْکا معنی ہے:  جمیع اوقات میں لوگوں کے نفع اور خیر خواہی کے لئے ممتاز حیثیت دے کر انہیں بھیجا گیا۔ فرمانِ باری ہے: ’’ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْ مِنُوْنَ بِاللہِ ‘‘جملہ مستانفہ ہے، اس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…
2…ترجمۂکنزالایمان:تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (پ ۴، اٰلِ عمران : ۱۱۰)