Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
91 - 676
فرمانِ نبوی ہے: بندہ کے لئے دورکعت نماز پڑھنے کی توفیق سے بہتر کوئی اور انعام نہیں ہے۔(1)
	حضرتِ عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ جب نماز پڑھنے کا اِرادہ کرتے تو آپ کا جسم کانپنے لگتا اور دانت بجنے لگتے۔ آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کہا: امانت کی ادائیگی اور فرض پورا کرنے کا وقت قریب آگیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ اسے کیسے ادا کروں گا۔
حکایت
	حضرتِ خلف بن ایوب رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہنماز میں تھے کہ انہیں کسی جانور نے کاٹ لیا اور خون بہنے لگا مگر انہیں محسوس نہ ہوا یہاں تک کہ ابن سعید باہر آئے اور انہوں نے آپ کو بتایا اور خون آلود کپڑا دھویا، پوچھا گیا: آپ کو جانور نے کاٹ لیا اور خون بھی بہا مگر آپ کو محسوس نہ ہوا؟ آپ نے جواب دیا: اسے کیسے محسوس ہوگا جو اللہ ذُوالْجَلَال کے سامنے کھڑا ہو، اس کے پیچھے ملک الموت ہو، بائیں طرف جہنم اور قدموں کے نیچے پل صراط ہو۔
	حضرت عمر و بن ذر رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ جلیل القدر عابد اور زاہد تھے، ان کے ہاتھ میں ایک ایسا زخم پڑگیا کہ اطباء نے کہا :اس ہاتھ کو کاٹنا پڑے گا۔ آپ نے کہا: کاٹ دو، اطباء نے کہا: آپ کو رسیوں سے جکڑے بغیر ایسا کرنا ناممکن ہے، آپ نے کہا: ایسا نہ کرو بلکہ جب میں نماز شروع کروں ، تب کاٹ لینا چنانچہ جب آپ نے نماز شروع کی تو آپ کا ہاتھ کاٹ لیا گیا مگر آپ کو محسوس بھی نہ ہوا۔
٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر ، ۸/۱۵۱، الحدیث ۷۶۵۶