حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا ارشاد ہے: ہم اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم آپس میں باتیں کرتے تھے، جب نماز کا وقت آجاتا تو اللہ تَعَالٰی کی عظمت کی وجہ سے ہم ایسے ہوجاتے جیسے ایک دوسرے کو پہچانتے بھی نہیں ۔ (1)
فرمانِ نبوی ہے: اللہ تَعَالٰی اس نماز کی طرف نہیں دیکھتا جس میں انسان کا دل اس کے بدن کے ساتھ شاملِ عبادت نہیں ہوتا۔(2)
حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو کافی فاصلے سے ان کے دل کی دھڑکن سنی جاتی، حضرتِ سعید تنوخی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ جب نماز پڑھتے تو ان کے آنسو ان کے چہرے اور داڑھی پر گرتے رہتے۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک آدمی کو دیکھا تو حالت نماز میں اپنی داڑھی سے کھیل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء پرسکون ہوتے۔(3)
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی نماز
جب نماز کا وقت آتا تو حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا اور آپ پر لرزہ طاری ہوجاتا، پوچھا گیا: اے امیر المومنین! آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی کی اس امانت کی ادائیگی کا وقت آگیا جسے اللہ تَعَالٰی نے آسمان و زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تھا مگر انہوں نے معذوری ظاہر کردی تھی اور میں نے اسے اٹھالیا۔
روایت ہے کہ جب علی بن حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا وضو کرتے تو ان کا رنگ متغیر ہو جاتا، گھر والے کہتے: آپ کو وضو کے وقت کیا تکلیف لاحق ہوجاتی ہے؟ آپ جواب دیتے:جانتے نہیں ہو میں کس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی تیاری کررہا ہوں ۔
حضرتِ حاتم اصم سے ان کی نماز کے متعلق سوال کیا گیا: انہوں نے کہا: جب نماز کا وقت آجاتا ہے، میں پوری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… فیض القدیر، حرف الھمزۃ ، ۳/۱۱۴، تحت الحدیث ۲۸۲۱
2…الترغیب والترھیب ،کتاب الصلاۃ، الترھیب من عدم اتمام الرکوع ۔۔۔الخ،۱/۲۴۴،الحدیث ۷۷۳ و روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:۴۳، ۱/۱۲۲ وطبقات الشافیۃ الکبری للسبکی،۶/۲۹۴
3…کنزالعمال ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی۔۔۔الخ، مکروہات متفرقۃ ، ۷/۹۴، الجزء الثامن ، الحدیث ۲۲۵۲۵