Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
88 - 676
 آپ کو خشوع کا حکم دیا گیا چنانچہ اس کے بعد سے آپ نے اپنی چشم ہائے مقدس کو سجدہ گاہ پر مرکوز فرما دیا۔(1)
	حاکم اور بیہقی نے حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہسے روایت کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جب نماز پڑھتے تو آسمان کی طرف نظر فرماتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی، تب آپ نے اپنے سرِ اقدس کو جھکالیا۔(2)
	حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہکہتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمان ہے: پانچ نمازوں کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک بڑی نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر میل رہے گا؟(3)لہٰذا جب حضورِ قلب اور خشوع سے نماز پڑھی جائے تو انسان کبیرہ گناہوں کے علاوہ تمام گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے، بغیر خشوع کے نماز رد کردی جاتی ہے۔ فرمانِ نبوی ہے: جس نے دورکعت نماز پڑھی اور اس کے دل میں کسی قسم کا دنیاوی خیال نہیں آیا تو اس کے گذشتہ تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ (4)(حضورِ قلب سے اگر نماز ادا کی)
	فرمانِ نبوی ہے: نماز کی فرضیت، حج کا حکم، طواف و مناسکِ حج کا حکم اللہ تَعَالٰی کے ذکر کے لئے دیا گیا ہے، اب اگر ان کی ادائیگی کے وقت دل میں ذکرِ خدا کی عظمت و ہیبت نہ ہو تو اس عبادت کی کوئی قیمت نہیں ۔ (5) 
	فرمانِ نبوی ہے: جسے نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہیں روکا وہ اللہ تَعَالٰی سے دور ہی ہوتا جائے گا۔(6)
	حضرتِ بکر بن عبداللہ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: اے انسان! اگر تو اپنے مالک کے حضور بغیر اذن کے حاضر ہونا اور بغیر کسی ترجمان کے گفتگو کرنا چاہتا ہے تو اس کے دربار میں داخل ہوجا، پوچھا گیا: یہ کیسے ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا: وضو کو مکمل کرلے، پھر مسجد میں چلاجا اب تو اللہ کے دربار میں آگیا، اب بغیر کسی ترجمان کے گفتگو کر۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لعبد الرزاق ، کتاب الصلا ۃ ، باب رفع الرجل بصرہ الی السماء، ۲/۱۶۵، الحدیث ۳۲۶۷
2…المستدرک للحاکم ، کتاب التفسیر ، باب شرح معنی الخشوع ، ۳/۱۵۳، الحدیث ۳۵۳۵
3…مسلم ، کتاب المساجد۔۔۔الخ، باب المشی الی الصلاۃ۔۔۔الخ، ص ۳۳۶، الحدیث۲۸۳۔ (۶۶۷) و ۲۸۴۔ (۶۶۸)
4…ان الفاظ کے ساتھ ہمیں حدیث نہیں ملی البتہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں تحیۃ الوضو سے متعلق یہ فضیلت بیان ہوئی ہے جس میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمان ہے :  مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِی ہَذَا ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ،لَایُحَدِّثُ فِیْہِمَا نَفْسَہُ،غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔  (بخاری،کتاب الوضو ء، باب الوضوء ثلاثا ثلاثا، ۱/۷۸، الحدیث ۱۵۹)
5…ابوداود، کتاب المناسک ، باب فی الرمل ، ۲ /۲۶۰، الحدیث ۱۸۸۸و قوت القلوب، ج۲،ص۱۶۲
6…المعجم الکبیر، ۱۱/۴۶، الحدیث ۱۱۰۲۵