باب :14
نماز میں خشوع وخضوع
اللہ تَعَالٰی کا ارشاد ہے:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ (1)
وہ مومن نجات پائیں گے جو اپنی نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔
علماء نے فرمایا ہے کہ خشوع دو معنوں میں مستعمل ہے: بعض علماء نے اسے اَفعالِ قلب میں شمار کیا ہے جیسے ڈر، خوف، اِنبساط وغیرہ اور بعض نے اسے اعضائے ظاہری کے افعال میں شمار کیا ہے جیسے اطمینان سے کھڑا ہونا، بے توجہی اور بے پروائی سے بچنا وغیرہ۔ خشوع کے معنی میں ایک یہ بھی اختلاف ہے کہ یہ نماز کے فرائض میں سے ہے یا فضائل میں سے، جو اسے فرائض نماز سے سمجھتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے:
’’ لَیْسَ لِعَبْدٍ مِنْ صَلٰوتِہٖ اِلَّا مَا عَقَلَ ‘‘ (2)بندہ کے لئے نماز میں وہی کچھ ہے جسے وہ اچھی طرح سمجھتا ہے۔اور فرمانِ الٰہی ہے: ’’ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیۡ ﴿۱۴﴾ ‘‘ (3) اور غفلت ذکر کے مخالف ہے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
لَا تَکُنۡ مِّنَ الْغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾ (4) تم غافلین میں سے نہ بنو۔
(اس دلیل کو انہوں نے فرائض نماز میں شمار کیا ہے)
بیہقی نے محمد بن سیرین رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہسے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جب نماز ادا فرماتے تو آسمان کی طرف نظر فرماتے، تب یہ آیت (5)نازل ہوئی۔(6)عبدالرزاق نے اس روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتے ہیں۔ (پ۱۸، المؤمنون:۱،۲)
2…فیض القدیر شرح الجامع الصغیر،حرف الرا ، ۴/۲۱، تحت الحدیث ۴۴۰۵
3…ترجمۂکنزالایمان: میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔ ( پ۱۶، طٰہٰ :۱۴)
4…ترجمۂکنزالایمان: غافلوں میں نہ ہونا۔ (پ۹،الاعراف:۲۰۵)
5…یعنی باب کی ابتدا میں ذکر کردہ آیتقَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾اَلَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾۔ (پ۱۸، المؤمنون:۱،۲)
6…