Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
85 - 676
اِنَّ اللہَ  یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا (1)		اللہ تَعَالٰی تمہیں حکم دیتا ہے تم امانتیں ان کے مالکوں کو لوٹاؤ۔
	مفسرین کرام کہتے ہیں : اس آیت کریمہ میں بہت سے احکامِ شرعی موجود ہیں اور اس کا خطاب عمومی طور پر تمام والیوں (حاکموں ) سے ہے، اس لئے والیوں کے لئے ضروری ہے کہ مظلوم کے ساتھ انصاف کریں ، اظہارِ حق سے نہ رکیں کیونکہ یہ ان کے پاس امانت ہے، عمومی طور پر تمام مسلمانوں اور خصوصی طور پر یتیموں کے مال کی حفاظت کریں۔ 
	علماء کے لئے لازم ہے کہ وہ لوگوں کو دینی احکامات کی تعلیم دیں کیونکہ علماء نے اس بارِ امانت کو اٹھانے کا عہد کیا ہے۔ باپ کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور اسے اچھی تعلیم دے کیونکہ یہ اس کے پاس امانت ہے۔فرمانِ نبوی ہے:
	’’ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّ کُلُّکُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ ‘‘ (2)تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک اپنی رعایا کے بارے میں جوابدہ ہے۔(پس تم سے تمہاری رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔)
          ’’ زَہْرُ الرِّیَاض ‘‘ میں ہے قیامت کے دن ایک انسان کو اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، خداوند عَزَّوَجَلَّفرمائے گا: تو نے فلاں شخص کی امانت واپس کی تھی؟ بندہ عرض کرے گا: نہیں ! رب تعالیٰ حکم دے گا اور فرشتہ اسے جہنم کی طرف لے جائے گا۔ وہاں وہ جہنم کی گہرائی میں اس امانت کو رکھا ہوا دیکھے گا، وہ اس امانت کی طرف گرے گا اور ستر سال کے بعد وہاں پہنچے گا، پھر وہ امانت اٹھا کر اوپر آئے گا، جب وہ جہنم کے کنارے پر پہنچے گا تو اس کا پاؤں پھسل جائے گا اور وہ پھر جہنم کی گہرائی میں گر جائیگا۔ اسی طرح وہ گرتارہے گا اور چڑھتا رہے گا یہاں تک کہ نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ وسلَّمکی شفاعت سے اسے ربِّ ذوالجلال کی رحمت حاصل ہوجائے گی اور امانت کا مالک اس سے راضی ہوجائے گا۔
قرض کے سوا شہید کا ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے
	حضرت سلمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ  روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت والا میں حاضر تھے کہ ایک جنازہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزلایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو ۔ (پ۵، النساء :۵۸)
2…بخاری کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری والمدن، ۱/۳۰۹، الحدیث ۸۹۳، ملخصًا