مجاہد رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جب اللہ تَعَالٰی نے آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو پیدا کیا اور اس پر امانت پیش کی اور یہی کہا گیا تو انہوں نے کہا: میں اس بار کو اٹھاتا ہوں ۔
یہ بات سمجھ لیجئے کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں کو امانت لینے نہ لینے کا اختیار دیا گیا تھا، انہیں مجبور نہیں کیا گیا تھا، اگر ان کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہوتا تو لامحالہ انہیں یہ بارِ امانت اٹھانا پڑتا۔
قفال وغیرہ کا قول ہے کہ اس آیت میں ’’ عَرَض ‘‘سے ایک مثال دی گئی ہے کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں پر ان کی بے پناہ جسامت کے باوجود شریعت مطہرہ کے احکامات کی ذمہ داری اگر ان پر ڈالی جاتی تو یہ عذاب و ثواب کی وجہ سے ان پر گراں گزرتی کیونکہ یہ تکلیف ہی ایسی مہتم بالشان ہے کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں کا عاجز آجانا عین ممکن ہے مگر اسے انسان نے قبول کرلیا چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے: ’’ وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ‘‘(1) آدم عَلَیْہِ السَّلَام پر اس وقت یہ امانت پیش کی گئی جبکہ میثاق کے وقت ان کی اولاد کو ان کی صلب سے ننھی منھی صورتوں میں نکالا گیا تو آدم نے یہ بارِ امانت قبول کرلیا، فرمانِ الٰہی ہے:’’اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا ‘‘(2) انسان نے اس بارِ امانت کو اٹھا کر اپنے آپ پر ظلم کیا اور وہ اس بارِگراں کا اندازہ نہ کرسکا۔
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَاکا قول ہے: یہ امانت آدم عَلَیْہِ السَّلَام پر پیش کی گئی اور فرمان ہوا اسے مکمل طور پر لے لو، اگر تم نے اطاعت کی تمہیں بخش دوں گا، اگر نافرمانی کی تو عذاب دوں گا، آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا : اِلٰہَ العٰلَمِیْن! میں نے اسے مکمل طور پر قبول کیا اور اسی دن عصر سے رات تک کا وقت ہی گزرا تھا کہ انہوں نے شجرئہ (ممنوعہ) کو کھالیا۔ اللہ تَعَالٰی نے انہیں اپنی رحمت میں لے لیا۔ آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے توبہ کی اور صراطِ مستقیم پر گامزن ہوگئے۔
امانت کے معنی
امانت ایمان سے مشتق ہے، جو شخص امانت خداوندی کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کے ایمان کا محافظ ہوتا ہے، فرمانِ نبوی ہے: اس کا ایمان نہیں جس میں امانت نہیں اور اس کا دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں ۔ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اور آدمی نے اٹھالی ۔ (پ۲۲، الاحزاب:۷۲)
2…ترجمۂکنزالایمان:بے شک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے ۔ (پ۲۲ ، الاحزاب:۷۲)
3…شعب الایمان ، الباب الثانی والثلاثون من شعب الایمان ، باب فی الایفاء۔۔۔الخ، ۴/۷۸ ،الحدیث ۴۳۵۴