باب :13
اَمانت
فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا (1)
اللہنے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر امانت پیش کی وہ اسے سنبھالنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔
انہیں خوف ہوا کہ وہ اس امانت کا حق ادا نہ کرسکیں گے اور عذاب کے مستحق ہوں گے یا انہیں خیانت کا خوف لاحق ہوا۔ اس آیت کریمہ میں امانت کے معنی ایسی عبادت اور فرائض ہیں جن کی ادائیگی اور عدمِ ادائیگی سے ثواب و عذاب وابستہ اور متعلق ہے۔
قرطبی کا قول ہے: امانت دین کی تمام شرائط و عبادات کا نام ہے۔ یہ جمہور کا قول ہے اور قولِ صحیح ہے، اس کی تفصیل میں کچھ اختلاف ہے۔ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: یہ مال کی امانت ہے جیسے امانت رکھا ہوا مال وغیرہ۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ فرائض میں سب سے اہم مال کی امانت ہے۔
ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ غسل جنابت اَمانت ہے۔ ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ سب سے پہلے اللہ تَعَالٰی نے انسان کی شرمگاہ کو پیدا کیا اور فرمایا یہ امانت ہے جو میں تجھے دے رہا ہوں ، اسے بے راہ روی سے بچانا، اگر تو نے اس کی حفاظت کی تو میں تیری حفاظت کروں گا، لہٰذا شرمگاہ امانت ہے، کان امانت ہے، زبان امانت ہے، پیٹ امانت ہے، ہاتھ اور پیر امانت ہیں اور جس میں امانت نہیں اس کا ایمان نہیں ۔
حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: جب امانت آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی گئی، تو یہ تمام مظاہر کائنات اور جو کچھ ان میں ہے، سخت بے چین ہوگئے۔ اللہ تَعَالٰی نے ان سے فرمایا: اگر تم اچھے عمل کرو گے، تو تم کو اجر ملے گا اور اگر بُرے کام کرو گے تو میں عذاب دوں گا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا۔ (پ ۲۲، الاحزاب:۷۲)