باہر نکلے ہوئے اور داڑھی میں صرف سات بال، اسی صورت میں اسے جنت سے نیچے پھینک دیا گیا بلکہ آسمان و زمین سے جزائر کی طرف پھینک دیا گیا، وہ اب اپنے کفر کی وجہ سے زمین پر چھپے چھپے آتا ہے اور قیامت تک کے لئے لعنت کا مستحق بن گیا ہے۔ شیطان کتنا خوبصورت، حسین، کثیرالعلم، کثیرالعبادت، ملائکہ کا سردار، مقربین کا سرخیل تھا مگر اسے کوئی چیز (1)اللہ کے غضب سے نہ بچاسکی، بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ جب اللہ تَعَالٰی نے شیطان کی گرفت کی تو جبرائیل و میکائیل رونے لگے، ربّ نے فرمایا: کیوں روتے ہو؟ عرض کی: اے اللہ! تیری گرفت کے خوف سے روتے ہیں ۔ ارشاد ہوا: اسی طرح میری گرفت سے روتے رہنا۔(2)
اَولادِآدم پر شیطان کا غلبہ:
شیطان نے اللہ سے کہا: اے اللہ! تو نے مجھے جنت سے نکالا تو آدم کے سبب اب مجھے اولادِ آدم پر غلبہ عطا فرما! رب تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تجھے انبیاء کے سوا، جن کی عصمت مسلّم ہے، آدم کی اولاد پر غلبہ دیا۔ شیطان بولا کچھ اور! ربّ نے فرمایا: جتنی آدم کی اولاد ہوگی اتنی ہی تیری اولاد ہوگی۔ شیطان بولا: کچھ اور! خداوند کونین نے فرمایا: میں نے ان کے سینوں کو تیرا مسکن بنایا تو ان میں خون کی طرح گردش کرے گا۔ عرض کی: کچھ اور! فرمانِ الٰہی ہوا: اپنے سوار اور پیادہ مددگاروں سے امداد مانگ کر انہیں مال حرام کی کمائی پر آمادہ کرنا، انہیں ایامِ حیض وغیرہ میں مجامعت سے اولاد حرام کا حقدار بنانا اورحرام کاری کے اسباب مہیا کرنا، انہیں مشرکانہ نام تعلیم کرنا جیسے عبدالعزیٰ وغیرہ، انہیں گندی گفتگو، بُرے افعال اورجھوٹے مذاہب کے ذریعہ گمراہ کرنا، انہیں جھوٹی تسلیاں دینا جیسے معبود انِ باطلہ کی شفاعت، آباء و اجداد کی کرامتوں پر فخر، طویل امیدوں کے ذریعہ توبہ میں تاخیر وغیرہ اور یہ سب کچھ تہدید کے طور پر تھا جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
اِعْمَلُوۡا مَا شِئْتُمْ (3) تم جو چاہو ،کرو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کِبرْ، مُناظَرہ، حُجت، مُواحِدِیَّت
2…اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ(مترجم) ترجمۂ کنزالایمان: بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے۔ (پ۳۰ ، البروج :۱۲)
3…ترجمۂکنزالایمان:جو جی میں آئے کرو ۔(پ۲۴،حم السجدۃ:۴۰)