Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
78 - 676
 جو آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح کرے گا اس کی توبہ قبول ہو جائیگی، کیونکہ ہر وہ گناہ جس کا تعلق خواہشاتِ انسانی سے ہے، اس کی بخشش ممکن ہے اور جس گناہ کا تعلق تکبر و خود بینی سے ہو اس کی بخشش کی اُمید نہیں کی جاسکتی ، شیطان کی غلطی یہی تھی اور آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی خطا خواہش نفس سے تھی۔
 حکایت:
	ایک مرتبہ شیطان حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آیا اورکہنے لگا: آپ کو اللہ تَعَالٰی نے رسول بنایا ہے اور آپ سے کلام فرماتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں ! مگر تم کون ہو اور کیا کہنا چاہتے ہو؟ کہنے لگا: میں شیطان ہوں ، اللہ تَعَالٰی سے سوال کیجئے کہ تیری مخلوق تجھ سے توبہ کی طالب ہے، اللہ تَعَالٰی نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی کی، فرمایا: اس سے کہو کہ ہم نے تیری درخواست کو قبول کیا مگر ایک شرط کے ساتھ کہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی قبر پر جاکر سجدہ کرلو، جب تو سجدہ کرلے گا میں تیری توبہ قبول کرلوں گا اور تیرے گناہوں کو معاف کردوں گا۔ 
	موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے جب شیطان کو یہ بتلایا تو وہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور از راہِ کِبر و غرور کہنے لگا:اے موسیٰ! میں نے تو آدم کو جنت میں سجدہ نہیں کیا تو اب ان کی قبر کو کیسے سجدہ کرلوں ؟
روایت:
	شیطان کو جہنم میں شدید عذاب دے کر پوچھا جائے گا: تو نے عذاب کو کیسا پایا؟ جواب دے گا: بہت سخت! اسے کہا جائے گا: آدم ریاضِ جنت میں ہیں انہیں سجدہ کرلو اور گذشتہ اعمال پر معذرت، تاکہ تیری بخشش ہوجائے، مگر شیطان سجدہ کرنے سے انکار کردے گا، پھر اس پر عام جہنمیوں کی نسبت ستّر ہزار گنا زیادہ عذاب بھیجا جائے گا۔ 
      ایک روایت میں ہے کہ اللہ تَعَالٰی ہر لاکھ سال بعد شیطان کو آگ سے نکال کر اسے آدم کو سجدہ کا حکم دے گا مگر وہ برابر انکار کرتا رہے گااور اسے بار بار جہنم میں ڈالا جاتا رہے گا۔(1)
	پس اگر تم ابلیس سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو ربِ کریم کے دامن رحمت سے چمٹ جاؤ اور اسی سے پناہ مانگو۔ جب قیامت کا دن ہوگا، شیطان کے لئے آگ کی کرسی رکھی جائے گی، وہ اس پر بیٹھے گا، تمام شیطان اور کافر وہاں جمع ہو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر روح البیان ، البقرۃ ، تحت الآیۃ:۳۴ ، ۱/۱۰۵