Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
77 - 676
 باب: 12
شیطان اور اس کا عذاب
	فرمانِ الٰہی ہے:
فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہ  لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیۡنَ (1)
پس اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے اعراض کیا تو اللہ تَعَالٰی تمہیں نہیں بخشے گا، نہ ہی تمہاری توبہ قبول کرے گا۔
	جیسے کفر اور تکبر کی وجہ سے شیطان کی توبہ قبول نہ ہوئی اور اپنی غلطی کا اِقرار کرنے، شرمندہ ہونے اور اپنے نفس کو ملامت کرنے کی وجہ سے آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی توبہ اللہ تَعَالٰی نے قبول فرمالی۔
	 اگرچہ قولِ صحیح کے مطابق آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے حقیقتاً کوئی گناہ نہیں کیا تھا کیونکہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامنبوت سے سرفراز ہونے سے قبل اور بعد ہر حال میں گناہوں سے پاک ہوتے ہیں لیکن صورت گناہ کی سی تھی لہٰذا حضرتِ آدم و حوا عَلَیْہِمَا السَّلَام نے بارگاہِ ربُّ العزت میں عرض کیا:
رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ  (2)
	آدم عَلَیْہِ السَّلَام اپنی غلطی پر شرمسار ہوئے، اللہ کی رحمت کے اُمیدوار ہوئے اور توبہ میں جلدی کی جیسا کہ: فرمان الٰہی ہے:  ’’ میری رحمت سے ناامید نہ ہو۔ ‘‘(3)
	لیکن شیطان نے اپنی غلطی کو تسلیم نہ کیا، پشیمان نہ ہوا، اپنے نفس کو ملامت نہ کی، توبہ میں جلدی نہ کی اور تکبر کی وجہ سے رحمت خداوندی سے ناامید ہوگیا چنانچہ آج بھی جس کسی کی کیفیت ابلیس کی طرح ہوگی اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی مگر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر۔ (پ۳، اٰلِ عمران:۳۲)
2…ترجمۂکنزالایمان:  اے رب ہمارے، ہم نے اپنا آپ بُرا کیا تو اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں 
         ہوئے۔ ( پ۸،الاعراف:۲۳)
3…ترجمہ ٔکنزالایمان: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ (پ۲۴، الزمر: ۵۳)