Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
76 - 676
٭…اے صاحب راز! راز ظاہر ہوگیا، اب میں اس اِفشائے راز اور شہرت کے بعد زندگی نہیں چاہتا۔ 	
	پھر کہا:اے الٰہی! مجھے موت دے دے اور گِر کر مرگیا۔ 
	واقعی صالح، عاشق اور طالب مولیٰ لوگوں کے حالات ایسے ہی تھے۔ 
حضرتِ موسٰی  عَلَیْہِ السَّلَام سے دوست کی فرمائش:
	’’ زَہْرُالرِّیَاض‘‘میں ہے کہ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا ایک عزیز دوست تھا، ایک دن آپ سے کہنے لگا :اے موسیٰ! میرے لئے دعا کر دیجئے کہ اللہ تَعَالٰی مجھے اپنی معرفت عطا فرمائے۔ آپ نے دعا کی، اللہ تَعَالٰی نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور  وہ دوست آبادی سے کنارہ کش ہوکر پہاڑوں میں وحوش کے ساتھ رہنے لگا۔
	 جب موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے نہ پایا تو رب تعالیٰ سے التجا کی: الٰہی! میرا وہ دوست کہاں گیا؟ رب تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! جو مجھے صحیح معنوں میں پہچان لیتا ہے وہ مخلوق کی دوستی کبھی پسند نہیں کرتا (اس لئے اس نے تمہاری اور مخلوق کی دوستی کو ترک کردیا ہے۔)
	حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عیسٰی اور یحییٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام اکٹھے بازار میں جارہے تھے ایک عورت نے انہیں زور سے ہٹایا، حضرتِ یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا: ربّ کی قسم! مجھے اس کا پتہ ہی نہیں چلا، حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا: سبحٰناللہ! آپ کا بدن تو میرے ساتھ ہے مگر دل کہاں ہے؟ حضرتِ یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا اے خالہ کے بیٹے! اگر میرا دل ایک لمحہ بھی غیر خدا سے متعلق ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں میں نے اپنے رب کو پہچانا ہی نہیں۔ (1)
	کہا گیا ہے سچی معرفت یہ ہے کہ انسان دنیا و آخرت کو چھوڑ کر اللہ تَعَالٰی کا ہی ہوجائے اور شرابِ محبت کا ایسے جام پئے کہ اللہ تَعَالٰی کا دیدار کئے بغیر ہوش میں نہ آئے، ایسا شخص ہی ہدایت یاب ہے۔
……٭…٭…٭……
 مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…