Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
75 - 676
علاج ہے جو تائب ہو کر اپنے رب کے حضور آگیا ہو۔ 
دوآقاؤں کی خدمت:
	ایک شخص نے ایک غلام خریدا، غلام نے کہا: اے مالک! میری تین شرطیں ہیں :
	{1}…جب نماز کا وقت آئے تو مجھے اس کے ادا کرنے سے نہ روکنا۔ 
	{2}…دن کو مجھ سے جو چاہو کام لو مگر رات کو نہیں ۔ 
	{3} …مجھے ایسا کمرہ دو جس میں میرے سوا کوئی نہ آئے۔
	مالک نے تینوں شرطیں منظور کرتے ہوئے کہا: گھر میں رہنے کے لئے کوئی کمرہ پسند کرلو! غلام نے ایک خراب سا کمرہ پسند کرلیا، مالک بولا: تو نے خراب کمرہ کیوں پسند کیا؟ غلام نے جواب دیا: اے مالک! یہ خراب کمرہ اللہ کے یہاں چمن ہے چنانچہ وہ دن کو مالک کی خدمت کرتا اور رات کو اللہ کی عبادت میں مشغول ہوجاتا۔ 
	ایک رات اس کا مالک وہاں سے گزرا تو اس نے دیکھاکمرہ منور ہے، غلام سجدہ میں ہے اور اس کے سر پر ایک نورانی قندیل معلق ہے اور وہ آہ وزاری کرتے ہوئے کہہ رہا ہے: یاالٰہی! تو نے مجھ پر مالک کی خدمت واجب کردی ہے اور مجھ پر یہ ذمہ داری نہ ہوتی تو میں صبح و شام تیری عبادت میں مشغول رہتا، اے اللہ! میرا عذر قبول فرما لے۔ مالک ساری رات اس کی عبادت دیکھتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، قندیل بُجھ گئی اور کمرے کی چھت حسبِ سابق ہموار ہوگئی وہ واپس لوٹا اور اپنی بیوی کو سارا ماجرا سنایا۔
	جب دوسری رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو ساتھ لیکر وہاں پہنچ گیا، وہاں دیکھا تو غلام سجدہ میں تھا اور نورانی قندیل روشن تھی، وہ دونوں دروازے پر کھڑے ہو گئے، اور ساری رات اسے دیکھ کر روتے رہے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے غلام کو بلا کر کہا: ہم نے تجھے اللہ کے نام پر آزاد کردیا ہے تاکہ تو فراغت سے اس کی عبادت کر س کے، غلام نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا:   ؎
یاصاحب السر ان السر قد ظہرا
ولا  ارید  حیوتی  بعد  ما اشتھرا