دیتا ہے اور جو شخص عبادت کی حرمت و عظمت کو نہیں جانتا اللہ تَعَالٰی اس کے دل سے عبادت کی شیرینی نکال لیتا ہے۔
حضرت فضیل بن عیاض سے ایک سوال:
حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا گیا: اے ابو علی! آدمی نیک کب ہوتا ہے؟ فرمایا جب اس کی نیت میں نصیحت، دل میں خوف ، زبان پر سچائی اور اس کے اعضاء سے اعمالِ صالحہ کا صدور ہوتا ہے۔
اللہ تَعَالٰی نے شبِ معراج نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے فرمایا: اے احمد! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) اگر آپ کو تمام لوگوں سے زیادہ پرہیز گار بننا پسند ہے تو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت میں رغبت کیجئے۔ آپ نے عرض کی اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن! دنیا سے بے رغبتی کیسے ہو؟ فرمانِ الٰہی ہوا: دنیا کے مال سے بقدر ضرورت کھانے پینے اور پہننے کی چیزیں لے لیجئے اور بس! کل کے لئے ذخیرہ نہ کیجئے اور ہمیشہ میرا ذکر کرتے رہئے۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا: ذکر پر دوام کیسے ہو؟ جواب ملا لوگوں سے علیحدگی اختیار کیجئے، نماز کو اور بھوک کو اپنی غذا بنائیے۔(1)
فرمانِ نبوی ہے: دنیا سے کنارہ کشی جسم و جان کی تازگی ہے اور دنیا کی رغبت میں غم و اندوہ کی فراوانی ہے۔(2)
دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے اور کنارہ کشی ہر خیر و برکت کی بنیاد ہے۔
دلِ بیمار کا علاج :
ایک صالح شخص کا ایک جماعت کے پاس سے گزر ہوا ، وہاں ایک معالج بیماریوں اور دوائیوں کا ذکر کررہا تھا۔ صالح جوان نے پوچھا: اے جسموں کے معالج! کیا تیرے پاس دلوں کا بھی علاج ہے؟ وہ بولا: ہاں بتاؤ! دل میں کیا بیماری ہے؟ صالح جوان نے کہا: گناہوں کی ظلمت نے اسے سخت کردیا ہے معالج نے کہا: اس کا علاج صبح و شام گریہ وزاری، استغفار، رب غفور کی اطاعت میں سعی اور اپنے گناہوں پر معذرت طلبی ہے، دوا تو یہ ہے، شفاء رب کے پاس ہے، وہ صالح جوان اتنا سنتے ہی بے حال ہوگیا اور کہنے لگا: تم واقعی ایک اچھے طبیب ہو، تم نے لاجواب علاج بتلایا معالج نے کہا: یہ اس دل کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…
2…شعب الایمان ، الحادی والسبعون من شعب الایمان ، باب فی الزھد۔۔۔الخ، ۷/۳۴۷، الحدیث ۱۰۵۳۶ و ۷/۳۲۳ ،الحدیث ۱۰۴۵۸