Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
73 - 676
 کی عیادت کے لئے اور جنازوں میں شرکت کے لئے، اور وہ فرماتے ہیں : میں نے لوگوں کو چور اور رہزن پایا ہے، عمر ایک عمدہ جوہر ہے جس کی قیمت کا تصور نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اس سے آخرت کے لئے خزانہ تیار کرنا چاہئے اور آخرت کے طلبگار کے لئے ضروری ہے کہ وہ دنیا میں ریاضت کرے تاکہ اس کا ظاہر اور باطن ایک ہوجائے، ظاہر و باطن پر مکمل اختیار حاصل کئے بغیر خزانے کا سنبھالنا مشکل ہے۔ 
	حضرتِ شبلی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کا قول ہے کہ ابتدائے ریاضت میں جب مجھے نیند آتی تو میں آنکھوں میں نمک کی سلائی لگاتا، جب نیند زیادہ تنگ کرتی تو میں گرم سلائی آنکھوں میں پھیرلیتا۔
	حضرتِ ابراہیم بن حاکم رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کا قول ہے: میرے والدِ محترم کو جب نیند آنے لگتی تو وہ دریا کے اندر تشریف لے جاتے اور اللہ کی تسبیح کرنے لگتے جسے سن کر دریا کی مچھلیاں اکٹھی ہوجاتیں اور وہ بھی تسبیح کرنے لگتیں۔ 
	حضرتِ وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ نے رب سے دعا مانگی: میری رات کی نیند اڑادے اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں چالیس برس تک نیند نہ آئی، اس طرح تمام راتیں انہوں نے عبادت میں بسر کیں ۔ 
	حضرتِ حسن حلاج رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ نے اپنے جسم کو ٹخنوں سے گھٹنوں تک تیرہ جگہوں سے بیڑیوں میں جکڑ رکھا تھا اور اسی حالت میں وہ دن رات میں ایک ہزار رکعت نفل ادا کرتے تھے۔ 
	   حضرتِ جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ ابتدائے حال میں بازار میں جاتے اور اپنی دکان کھول کر اس کے آگے پردہ ڈال دیتے اور چار سو رکعت نفل ادا کر کے دکان بند کر کے گھر واپس آجاتے۔
	 حضرت حبشی بن داؤد رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی۔
	لہٰذا ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ باوضو رہے، جب بے وضو ہو جائے تو فوراً وضو کر کے دورکعت نفل ادا کرے، ہر مجلس میں قبلہ رو بیٹھے، حضورِ دل اور مراقبہ کیساتھ یہ تصور کرے کہ وہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے مواجہہ شریف میں بیٹھا ہے، تحمل اور بردباری کو اپنے اَفعال میں لازم رکھے، دکھ جھیلے مگر برائی کا بدلہ برائی سے نہ دے، گناہوں سے استغفار کرتا رہے، خود بینی اور ریا کے قریب نہ جائے کیونکہ خود بینی شیطان کی صفت ہے، اپنے آپ کو حقارت سے اور نیک لوگوں کو احترام سے دیکھے اس لئے کہ جو شخص نیکوں کے احترام کو نہیں جانتا اللہ تَعَالٰی اسے ان کی صحبت سے محروم کر