کےلئے، دل غور و فکر کے لئے اور زبان سچائی کا گہوارہ اور ذکر و تسبیح کے لئے ہو، چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
اُذْکُرُوا اللہ َ ذِکْرًا کَثِیۡرًا ﴿ۙ۴۱﴾ وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۴۲﴾ (1)
تم اللہ کابہت زیادہ ذکر کرواور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔
حکایت:
حضرتِ عبداللہ اور احمد بن حرب رَحِمَہُمَا اللہ ایک جگہ گئے، احمد بن حرب نے وہاں خشک گھاس کا ایک ٹکڑا کاٹا، حضرت عبداللہنے جناب احمد بن حرب سے کہا: تجھے پانچ چیزیں حاصل ہوگئیں ، تیرے اس فعل سے تیرا دل اللہ کی تسبیح سے غافل ہوا، تونے اپنے نفس کو اللہ کے ذکر کے ما سوا کاموں کی عادت ڈالی، تونے اپنے نفس کے لئے ایک راستہ بنادیا جس میں وہ تیرے پیچھے پڑے گا، تونے اسے اللہ کی تسبیح سے روکا اور قیامت کے لئے اپنے نفس کو رب کے سامنے ایک حجت دے دی۔
حضرتِ شیخ سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں : میں نے شیخ جرجانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس پِسے ہوئے ستو دیکھے، میں نے پوچھا: آپ ستو کے علاوہ اور کچھ کیوں نہیں کھاتے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کھانا چبانے اور ستو پینے میں ستر 70تسبیحوں کا اندازہ لگایا ہے، چالیس سال ہوئے میں نے روٹی کھائی ہی نہیں تاکہ ان تسبیحوں کا وقت ضائع نہ ہو۔
حضرتِ سہل بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ پندرہ دن میں صرف ایک مرتبہ کھاتے اور جب ماہ رمضان آتا تو مہینے میں صرف ایک مرتبہ کھاتے۔ بعض اوقات تو وہ ستّر دنوں تک بھی کچھ نہ کھاتے، جب آپ کھانا کھاتے تو کمزور ہو جاتے اور جب بھو کے رہتے تو قوی ہوجاتے تھے۔
حضرتِ ابوحمادالاسود رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تیس برس کعبہ کے مجاور رہے مگر کسی نے انہیں کھاتے پیتے نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ ایک لمحہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوئے۔
حکایت :
حضرتِ عمروبن عبید رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تین کاموں کے علاوہ کبھی گھر سے باہر نہ نکلتے۔ نماز باجماعت کے لئے، مریضوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بولو۔ (پ۲۲،الاحزاب:۴۱،۴۲)