اللہ کا دیوانہ عاشِق
ایک شخص نے ایک دیوانے سے ایک ایسا عمل سرزد ہوتے دیکھا جو خلافِ توقع تھا وہ حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں پہنچا اور واقعہ کہہ سنایا: آپ نے کہا: اللہ کے بہت سے عشاق ہیں ، کچھ چھوٹے ہیں کچھ بڑے، کچھ عقلمند ہیں اور کچھ دیوانے ہیں ، جس شخص کو تم نے دیکھا ہے وہ اللہ کا عاشق دیوانہ ہے۔
حکایت :
حضرتِ جنید کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیمار ہوگئے ہمیں اُنکی بیماری کے اَسباب کا پتہ نہیں چل رہا تھا، کسی نے ہمیں ایک حکیم حاذِق کا پتہ بتلایا ہم ان کا قارورہ اس حکیم کے پاس لے گئے، وہ حکیم کچھ دیر توجہ سے اسے دیکھتا رہا پھر بولا: یہ کسی عاشق کا قارورہ نظر آتا ہے۔ یہ سنتے ہی میں بیہوش ہوگیا اور بوتل میرے ہاتھ سے گر گئی جب میں نے سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو واپس آکر واقعہ بتلایا تو انہوں نے تبسم فرمایا اور فرمایا: اسے اللہ سمجھے! اس نے یہ کیسے معلوم کرلیا؟ میں نے پوچھا :کیا محبت کے اَثرات پیشاب میں بھی ظاہر ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔
حضرتِ فضیل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا قول ہے: جب تجھ سے پوچھا جائے تو اللہ سے محبت کرتا ہے تو چپ ہوجا کیونکہ اگر تو نفی میں جواب دے گا تو یہ کفر ہوگا اور اگر ہاں کہے گا تو تیرے اندر عاشقوں جیسی کوئی صفت ہی موجود نہیں ہے (اس طرح تو جھوٹا سمجھا جائیگا )پس خاموشی اختیار کر کے ناراضگی سے بچ جا۔
حضرتِ سفیان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا قول ہے: جو شخص اللہ تَعَالٰی کے دوست کو دوست رکھتا ہے وہ اللہ کو دوست رکھتا ہے، اور جو اللہ تَعَالٰی کے احترام کرنے والے کا احترام کرتا ہے وہ اللہ کا احترام کرتا ہے۔
حضرتِ سہل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا قول ہے: حب خدا کی نشانی حب قرآن ہے حب خدا اور حب قرآن کی نشانی حب نبی ہے اور حب نبی کی نشانی نبی کی سنت سے محبت ہے اور حب سنت کی نشانی آخرت کی محبت ہے، آخرت کی محبت دنیا سے بغض کا نام ہے اور دنیا کے بغض کی نشانی معمولی مالِ دنیا پر راضی ہونا اور آخرت کے لیے دنیا کو خرچ کرنا ہے۔
حضرتِ ابوالحسن زنجانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا قول ہے: عبادت کی بنیاد تین چیزیں ہیں : آنکھ، دل، زبان۔ آنکھ عبرت