Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
70 - 676
دیا ہے؟ میں نے عرض کی نہیں یارسول اللہ! آپ نے فرمایا: اس لئے کہ تم نیکوں کی خدمت کرتے ہو، دوستوں کو نصیحت کرتے ہو، میری سنت اور اہلِ سنت سے محبت رکھتے ہو اور اپنے دوستوں سے حسنِ سلوک روا رکھتے ہو۔
	فرمانِ نبوی ہے: جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔(1)
	’’شَرْعَۃُ الْاِسْلَام‘‘ اور’’  آثارِ مشہورہ ‘‘ میں ہے کہ جب مذہب میں فتنے پیدا ہوجائیں اور مخلوق میں پراگندگی رونما ہوجائے اس وقت حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سنت پر عمل پیرا ہونے کا ثواب سو شہیدوں کے اجر کے برابر ہے۔(2)
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میری تمام اُمت جنت میں جائے گی مگر جس نے انکار کیا۔ عرض کی گئی حضور! انکار کس نے کیا؟ آپ نے فرمایا: جس نے میری اتباع کی وہ جنت میں جائے گا جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا انکار کیا۔(3) ہر وہ عمل جو میرے طریقے کے مطابق نہیں وہ گناہ ہے۔
	ایک عارفِ باصفا کا ارشاد ہے: اگر تو کسی شیخ کو ہوا میں اڑتا ہوا یا پانی پر چلتا ہوا یا آگ وغیرہ کھاتا ہوا دیکھے لیکن وہ عملاً اللہ کے کسی فرض یا نبی کی کسی سنت کا تارک ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ اس کا دعوی محبت باطل ہے اور یہ اس کی کرامت نہیں استدراج(4)ہے۔
	حضرت جنید رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کا قول ہے کہ کوئی شخص بھی اللہ تک اس کی توفیق کے بغیر نہیں پہنچا اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی اقتداء و اتباع ہے۔
	حضرتِ احمد الحواری رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کا قول ہے کہ اتباعِ سنت کے بغیر ہر عمل باطل ہے۔ 
	’’ شَرْعَۃُ الْاِسْلَام‘‘ میں فرمانِ نبوی ہے کہ جس نے میری سنت کو ضائع کیا اس پر میری شفاعت حرام ہے۔(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی،کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذ بالسنۃ۔۔۔الخ، ۴/۳۰۹، الحدیث ۲۶۸۷
2… روح البیان، البقرۃ ، تحت الآیۃ: ۱۲۳،۱/۲۲۱
3…بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، باب الاقتداء ۔۔۔الخ، ۴/۴۹۹، الحدیث۷۲۸۰
4…وہ خرقِ عادت جو کسی غیر مسلم سے سرزد ہو۔
5…روح البیان ، النساء ، تحت الآیۃ:۶۵، ۲/۲۳۱