Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
69 - 676
باب:11
اطاعتِ الٰہی و محبت الٰہی ومحبت رسول
	فرمانِ الٰہی ہے :
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ  فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ  (1)
فرمادے اے نبی! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اِتباع کرو اللہ  تمہیں محبوب رکھے گا۔
	اللہ تَعَالٰی تم پر رحم فرمائے اچھی طرح سمجھ لو کہ بندے کے لئے اللہ     عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے محبت ان کی اِطاعت اور ان کے اَحکامات کی پیروی ہے اور اللہ تَعَالٰی کے لئے بندوں کی محبت رحمت اور بخشش کا نزول ہے۔
	  جب بندہ یہ بات سمجھ لیتا ہے کہ کمالات حقیقی صرف اللہ ہی کے لئے ہیں اور مخلوق کے کمالات بھی حقیقت میں اللہ ہی کے کمالات ہیں اور اللہ ہی کے عطاکردہ ہیں تو اس کی محبت اللہ کے ساتھ اور اللہ کے لئے ہوجاتی ہے یہی چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت کرے اور جن باتوں کا وہ اقرار کرتا ہے ان امور سے اس محبت میں اضافہ ہو، اسی لئے محبت کو اطاعت کے ارادوں کا نام دیا گیا ہے اور اس کو اخلاص، عبادت اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی اتباع کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔
	حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کا قول ہے کہ کچھ لوگوں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ ہم رب تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں ، تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی اطاعت رسول محبت ِ الٰہی کا موجب ہے۔
حضرتِ بشر حافی   رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کو بلند مقام کیسے عطا ہوا؟
	حضرتِ بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے دیدار بہجت اَسرار سے خواب میں مشرف ہوا، آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: بشر حافی! جانتے ہو اللہ نے تمہیں تمہارے ہمعصروں سے بلند مقام کیوں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔ 
 (پ۳،اٰلِ عمران :۳۱)