Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
68 - 676
دے تب بھی میرا عشق بڑھتا جائے گا۔
	موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا وہاں سے گزر ہوا، آسیہ نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامسے پوچھا: میرا رب مجھ سے راضی ہے یا نہیں ؟ حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اے آسیہ! آسمان کے فرشتے تیرے انتظار میں ہیں اور اللہ تَعَالٰی تیرے کارناموں پر فخر فرماتا ہے، سوال کر تیری ہر حاجت پوری ہوگی۔ آسیہ نے دعا مانگی: اے میرے رب میرے لئے اپنے جوارِ رحمت میں جنت میں مکان بنادے، مجھے فرعون، اس کے مظالم اور ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔ 
	حضرت سلمان رَضِی َاللہُ عَنْہکہتے ہیں : آسیہ کو دھوپ میں عذاب دیا جاتا تھا، جب لوگ لوٹ جاتے تو فرشتے اپنے پروں سے آپ پر سایہ کیا کرتے تھے اور وہ اپنے جنت والے گھر کو دیکھتی رہتی تھیں۔ 
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِی َاللہُ عَنْہکہتے ہیں کہ جب فرعون نے حضرتِ آسیہ کو دھوپ میں لٹا کر چار میخیں ان کے جسم میں گڑوائیں اور ان کے سینے پر چکی کے پاٹ رکھ دئیے گئے تو حضرت آسیہ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر عرض کی:
رَبِّ ابْنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الْجَنَّۃِ (1)
اے میرے رب میرے لیے اپنے جوارِ رحمت میں جنت میں مکان بنا(آخر تک)
	حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کہتے ہیں اللہ تَعَالٰی نے اس دعا کے طفیل آسیہ کو فرعون سے باعزت رہائی عطا فرمائی اور ان کو جنت میں بلالیا جہاں وہ ذی حیات کی طرح کھاتی پیتی ہیں ۔ 
	اس حکایت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مصائب اور تکالیف میں اللہ کی پناہ مانگنا، اس سے التجا کرنا اور رہائی کا سوال کرنا مومنین اور صالحین کا طریقہ ہے۔
……٭…٭…٭……
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…آیت مبارکہ یوں ہے:  رَبِّ ابْنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:اے   میرے رب  میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش۔(پ۲۸،التحریم:۱۱)