مومن کی تعریف یہ ہے کہ وہ ہر گھڑی توبہ کرتا رہے اور اپنے گذشتہ گناہوں پر شرمندہ رہے، تھوڑی سی متاعِ دنیا پر راضی رہے، دنیاوی مشاغل کو بھول کر آخرت کی فکر کرے اور خلوصِ قلب سے اللہ تَعَالٰی کی عبادت کرتا رہے۔
ایک بخیل منافق
ایک منافق انتہائی بخیل تھا، اس نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ اگر تو نے کسی کو کچھ دیا تو تجھ پر طلاق ہے۔ ایک دن ایک سائل ادھر آنکلا اور اس نے خدا کے نام پر سوال کیا، عورت نے اسے تین روٹیاں دے دیں ، واپسی میں اسے وہی بخیل مل گیا اور پوچھا: تجھے یہ روٹیاں کس نے دی ہیں ؟ سائل نے اس کے گھر کے متعلق بتایا کہ مجھے وہاں سے ملی ہیں ۔ بخیل تیز قدموں سے گھر کی طرف چل پڑا اور گھر پہنچ کر بیوی سے بولا: میں نے تجھے قسم نہیں دی تھی کہ کسی سائل کو کچھ نہیں دینا! بیوی بولی: سائل نے اللہ کے نام پر سوال کیا تھا لہٰذا میں ردنہ کرسکی۔
کنجوس نے جلدی سے تنور بھڑکایا، جب تنور سرخ ہوگیا تو بیوی سے کہا: اُٹھ اللہ کے نام پر تنور میں داخل ہوجا! عورت کھڑی ہوگئی اور اپنے زیورات لے کر تنور کی طرف چل پڑی، کنجوس چلایا کہ زیورات تو یہیں چھوڑ جا۔ عورت نے کہا: آج میرا محبوب سے ملاقات کا دن ہے، میں اس کی بارگاہ میں بن سنور کر جاؤں گی اور جلدی سے تنور میں گھس گئی۔ اس بدبخت نے تنور کو بند کردیا۔ جب تین دن گزر گئے تو اس نے تنور کا ڈھکنا اٹھا کر اندر جھانکا مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ عورت اللہ تَعَالٰی کی قدرت سے اس میں صحیح و سالم بیٹھی ہوئی تھی۔ ہاتف غیبی نے آوازدی: کیا تجھے علم نہیں کہ آگ ہمارے دوستوں کو نہیں جلاتی۔
حضرتِ آسیہ کا ایمان
حضرتِ آسیہ رَضِی َاللہُ عَنْہا نے اپنا ایمان اپنے شوہر فرعون سے چھپایا تھا، جب فرعون کو اس کا پتہ چلا تو اس نے حکم دیا کہ اسے گوناگوں عذاب دیئے جائیں تاکہ حضرت آسیہ ایمان کو چھوڑ دیں لیکن حضرت آسیہ ثابت قدم رہیں ، تب فرعون نے میخیں منگوائیں اور ان کے جسم پر میخیں گڑوادیں اور فرعون کہنے لگا: اب بھی وقت ہے ایمان کو چھوڑدو مگر حضرت آسیہ نے جواب دیا تو میرے وجود پر قادر ہے لیکن میرا دل میرے رب کی پناہ میں ہے، اگر تو میرا ہر عضو کاٹ