Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
66 - 676
{1}…جو شخص ذکر خدا کی حلاوت کو پانے کا دعویٰ کرتا ہے مگر دنیا سے بھی محبت رکھتا ہے۔
{2}… جو اپنے اعمال میں اِخلاص کا دعویٰ کرتا ہے مگر لوگوں سے اپنی عزت افزائی کا خواہشمند ہے۔
{3}…جو اپنے خالق کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر اپنے نفس کو ذلیل نہیں کرتا۔
	فرمانِ نبوی ہے کہ میری امت پر عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے، جب وہ پانچ چیزوں سے محبت کریں گے اور پانچ چیزوں کو بھول جائیں گے:
{1}…دنیا سے محبت رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  آخرت کو بھول جائیں گے۔
{2}…مال سے محبت رکھیں گے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یومِ حساب کو بھول جائیں گے۔
{3}…مخلوق سے محبت رکھیں گے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  خالق کو بھول جائیں گے۔
{4}…گناہوں سے محبت رکھیں گے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   توبہ کو بھول جائیں گے۔
{5}…مکانوں سے محبت رکھیں گے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔   قبر کو بھول جائیں گے۔
	حضرتِ منصور بن عمار رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ نے ایک جوان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے جوان! تجھے تیری جوانی دھو کے میں نہ ڈالے، کتنے جوان ایسے تھے جنہوں نے توبہ کو مؤخر اور اپنی اُمیدوں کو طویل کردیا، موت کو بھلا دیا اور یہ کہتے رہے کہ کل توبہ کرلیں گے، پرسوں توبہ کرلیں گے یہاں تک کہ اسی غفلت میں ملک الموت آگیا اور وہ اندھیری قبر میں جاسوئے، انہیں نہ مال نے ، نہ غلاموں نے، نہ اولاد نے اور نہ ہی ماں باپ نے کوئی فائدہ دیا۔
	 فرمانِ الٰہی ہے کہ
یَوْمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ  بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾ (1)		
اس دن اموال و اولاد کچھ فائدہ نہ دیں گے۔
	اے ربِ ذوالجلال! ہمیں موت سے پہلے توبہ کی توفیق دے، ہمیں خوابِ غفلت سے ہوشیار فرمادے اور سیدالمرسلین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب فرما۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔(پ۱۹، الشعراء:۸۸،۸۹)