Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
65 - 676
ومن  الدلا ئل  ان  یری  متقشفا		متحفظا   من  کل   ما   ھو  قائل
{1}… تو دھوکہ نہ دے کیونکہ محبوب کے پاس دلائل اور عاشق کے پاس محبوب کے تحفوں کے وسائل ہیں ۔ 
{2} …ایک علامت یہ ہے کہ وہ اپنی تلخ آزمائش سے لطف اندوز ہوتا ہے اور محبوب جو کرتا ہے وہ اس پر خوش ہوتا ہے۔
{3} …اس کی طرف سے منع کرنا بھی عطیہ ہے اور فقر اس کے لئے عزت افزائی اور ایک فوری نیکی ہے۔
{4} …ایک علامت یہ ہے کہ وہ محبوب کی اطاعت کا پختہ ارادہ رکھتا ہے اگرچہ اسے ملامت کرنے والے ملامت کریں ۔ 
{5} …ایک علامت یہ ہے کہ تم اسے مسکراتا ہوا پاؤ گے اگرچہ اس کے دل میں محبوب کی طرف سے آگ سلگ رہی ہوتی ہے۔
{6} …ایک علامت یہ ہے کہ تم اسے خطاکاروں کی گفتگو سمجھتا ہوا پاؤ گے۔
{7}…اور ایک علامت یہ ہے کہ تم اسے ہر اس بات کا حفاظت کرنے والا پاؤ گے، جسے وہ کہتا ہے۔
حکایت:
 	حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامایک جوان کے قریب سے گزرے جو باغ کو پانی دے رہا تھا، اس نے آپ سے کہا: اللہ سے دعا کیجئے! اللہ تَعَالٰی مجھے ایک ذرّہ اپنے عشق کا عطا فرمادے۔ آپ نے فرمایا: ایک ذرہ بہت بڑی چیز ہے تم اس کے تحمل کی استطاعت نہیں رکھتے، کہنے لگا: اچھا! آدھے ذرہ کا سوال کیجئے! حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے رب تعالیٰ سے سوال کیا: اے اللہ! اسے آدھا ذرہ اپنے عشق کا عطا فرما دے، اس کے حق میں یہ دعا کر کے آپ وہاں سے روانہ ہوگئے۔
	کافی مدت کے بعد آپ پھر اسی راستہ سے گزرے اور اس جوان کے متعلق سوال کیا۔ لوگوں نے کہا: وہ تو دیوانہ ہوگیا ہے اور کہیں پہاڑوں کی طرف نکل گیا ہے۔ حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے رب سے دعا کی: اے اللہ! میری اُس جوان سے ملاقات کرادے، پس آپ نے دیکھا وہ ایک چٹان پر کھڑا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آپ نے اسے سلام کہا: مگر وہ خاموش رہا۔ آپ نے کہا: مجھے نہیں جانتے؟ میں عیسٰی ہوں ۔ اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ عیسی عَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی کی کہ اے عیسٰی! جس کے دل میں میری محبت کا آدھا ذرہ موجود ہو وہ انسانوں کی بات کیسے سنے گا؟ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! اگر اسے آری سے دو ٹکڑے بھی کردیا جائے تو اسے محسوس نہ ہوگا۔
	جو شخص تین باتوں کا دعویٰ کرتا ہے اور خود کو ان تین چیزوں سے پاک نہیں رکھتا تو اس کا دعویٰ باطل ہے: