اس کی روح پرواز کرگئی۔ میں نے اس پر اپنا کپڑا ڈالا اور کفن لینے چلا آیا۔ جب میں کفن لے کر واپس پہنچا تو وہ جوان وہاں نہیں تھا۔ میرے منہ سے بے ساختہ سبحٰن اللہ نکلا، تب میں نے ہاتف غیبی کی آواز سُنی جو کہہ رہا تھا: اے ذوالنون! اس کی زندگی میں شیطان اسے ڈھونڈتاتھا مگر نہ پاسکا، مالکِ دوزخ نے اسے ڈھونڈا مگر نہ پاسکا، رضوانِ جنت اسے تلاش کے باوجود نہ پاسکا، میں نے پوچھا وہ پھر کہاں گیا؟ جواب آیا:
فِیۡ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنۡدَ مَلِیۡکٍ مُّقْتَدِرٍ ﴿٪۵۵﴾ (1)
اپنے عشق، کثرتِ عبادت اور تعجیل توبہ کی وجہ سے وہ اپنے قادر رب العزت کے حضور پہنچ گیا ہے۔
عاشق کی پہچان
ایک شیخ سے عاشق کے متعلق پوچھا گیا اُنہوں نے کہا: عاشق میل ملاپ سے دور، تنہائی پسند، غوروفکر میں ڈوبا ہوا اورچپ چاپ رہتا ہے جب اسے دیکھا جائے وہ نظر نہیں آتا، جب بلایا جائے تو سنتا نہیں ، جب بات کی جائے تو سمجھتا نہیں اور جب اس پر کوئی مصیبت آجائے تو غمگین نہیں ہوتا، وہ بھوک کی پروا اور برہنگی کا احساس نہیں رکھتا، کسی کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتا، وہ تنہائی میں اللہ تَعَالٰی سے التجائیں کرتا ہے، اس کی رحمت سے انس و محبت رکھتا ہے، وہ دنیا کے لئے دنیا والوں سے نہیں جھگڑتا۔
حضرت ابو تراب بخشی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے عشق کی علامات میں یہ چند شعر کہے ہیں :
لَا تخدعن فللحبیب دلائل ولدیہ من تحف الحبیب وسائل
منھا تنعمہ بمر بلائہ وسرورہ فی کل ما ھو فاعل
فالمنع منہ عطیۃ مقبولۃ والفقر اکرام و بر عاجل
ومن الدلا ئل ان تری فی عزمہ طوع الحبیب وان الح العاذل
ومن الدلائل ان یری متبسما والقلب فیہ من الحبیب بلا بل
ومن الدلا ئل ان یری متفہما لکلام من یخطی لدیہ السائل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور ۔ (پ۲۷،القمر:۵۵)