’’ مُنْتَہٰی‘‘ میں ہے کہ محبت کا صدق تین چیزوں میں ظاہر ہوتا ہے، محب، محبوب کی باتوں کو سب کی باتوں سے اچھا سمجھتا ہے، اس کی مجلس کو تمام مجالس سے بہتر سمجھتا ہے اور اس کی رضاکو اوروں کی رضا پر ترجیح دیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ عشق پردہ دری کرنے والا اور رازوں کا اِفشاء کرنے والا ہے اور وَجد ذکر کی شیرینی کے وقت روح کا غلبۂ شوق کا بار اٹھانے سے عاجز ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اگر وجد کی حالت میں انسان کا کوئی عضو بھی کاٹ لیا جائے تو اسے محسوس تک نہیں ہوگا۔
حکایت:
ایک آدمی دریائے فرات میں نہا رہا تھا، اس نے سنا کہ کوئی شخص یہ آیت پڑھ رہا ہے:
وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾ (1) اے مجرمو! آج علیحدہ ہو جاؤ۔
یہ سنتے ہی وہ تڑپنے لگا اور ڈوب کر مرگیا۔
محمد بن عبداللہ بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں : میں نے بصرہ میں ایک بلند مقام پر کھڑے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا جو لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ جو عاشقوں کی موت مرنا چاہے اسے اس طرح مرنا چاہئے (کیونکہ عشق میں موت کے بغیر کوئی لطف نہیں ہے) اتنا کہا اور وہاں سے خود کو گرا دیا، لوگوں نے جب اسے اٹھایا تو وہ دم توڑ چکا تھا۔ حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا قول ہے کہ تصوف اپنی پسند کو ترک کر دینے کا نام ہے۔
حکایت:
’’ زَہْرُ الرِّیَاض ‘‘ میں ہے: حضرت ذُوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں : ایک دن میں خانۂ کعبہ میں داخل ہو گیا، میں نے وہاں ستون کے قریب ایک برہنہ نوجوان مریض کو پڑے دیکھا جس کے دل سے رونے کی آوازیں نکل رہی تھیں ، میں نے اس کے قریب جاکر اسے سلام کیا اور پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ایک غریب الوطن عاشق ہوں ۔ میں اسکی بات سمجھ گیا اور میں نے کہا: میں بھی تیری طرح ہوں ، وہ روپڑا، اس کا رونا دیکھ کر مجھے بھی رونا آگیا۔ اس نے مجھے دیکھ کر کہا: تم کیوں رورہے ہو؟ میں نے کہا: اس لئے کہ تیرا اور میرا مرض ایک ہے۔ اس نے چیخ ماری اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور آج الگ پھٹ جاؤ اے مجرمو ۔(پ۲۳،یٰسٓ:۵۹)