Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
62 - 676
 دیا: لیلیٰ نہیں مری وہ تو میرے دل میں ہے اور میں ہی لیلیٰ ہوں ، ایک دن جب مجنوں کا لیلیٰ کے گھر سے گزر ہوا تو وہ ستاروں کو دیکھتاہوا گزرنے لگا، کسی نے کہا: نیچے دیکھو شاید تمہیں لیلیٰ نظر آجائے۔ مجنوں بولا: میرے لئے لیلیٰ کے گھر کے اوپر چمکنے والے ستارے کی زیارت ہی کافی ہے۔ 
محبت کی ابتداء اور انتہاء
	جب حضرت منصور حلّاج کو قید میں اٹھارہ دن گزر گئے توحضرت شبلی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ نے ان کے پاس جاکر دریافت کیا: اے منصور! محبت کیا ہے؟ منصور نے جواب دیا: آج نہیں کل یہ سوال پوچھنا۔ جب دوسرا دن ہوا اور ان کو قید سے نکال کر مَقْتَل کی طرف لے گئے تو وہاں منصور نے شبلی کو دیکھ کر کہا: شبلی! محبت کی ابتداء جلنا اور انتہاء قتل ہوجانا ہے۔
اشارہ :
	جب منصور رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کی نگاہِ حق بین نے اس حقیقت کو پہچان لیا کہ ’’ اَنَّ کُلَّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللہِ بَاطِلٌ‘‘ اللہ تَعَالٰی کی ذات کے سوا ہر شے باطل ہے اور ذاتِ الٰہی ہی حق ہے، تو وہ اپنے نام تک کو بھول گئے لہٰذا جب ان سے سوال کیا گیا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ توجواب دیا: میں حق ہوں ۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اس ضمن میں امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فیضانِ سنت، جلداوّل، باب: آدابِ طعام، صفحہ ۴۲۱پر فرماتے ہیں:ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے  اَنَا الْحَقّ یعنی ’’میں حق (خدا )ہوں ‘‘ کہا تھا۔ اِس غَلَط فہمی کا رد کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ’’ حضرتِ سیِّدُنا حُسین بن منصور حَلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجن کو عوام ’’  منصور‘‘ کہتے ہیں،منصور ان کے والِد کانام تھا، اور ان کا اسمِ گرامی حُسین۔ (آپ) اکابر اہل حال سے تھے ۔ ان کی ایک بہن ان سے بدرجہا مرتبہ وِلایت و معرِفت میں زائد تھیں۔ وہ آخِرِ شب کوجنگل تشریف لے جاتیں اور یادِالہٰی میں مصروف ہوتیں ۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی بہن کو نہ پایا،گھر میں ہر جگہ تلاش کیا، پتا نہ چلا ، ان کو وسوسہ گزرا۔ دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہے، وہ اپنے وقت پر اُٹھ کر چلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہو لئے، دیکھتے رہے ، آسمان سے سونے کی زنجیر میں یا قوت کا جام اُترا اوراُن کے دَہنِ مبارک (یعنی مُنہ شریف) کے برابر آ لگا، انھوں نے پینا شروع کیا، ان سے صَبْر نہ ہو سکا کہ یہ جنّت کی نعمت(مجھے)نہ ملے، بے اختِیار کہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑ دو، انھوں نے ایک جُرعہ (یعنی ایک گُھونٹ )چھوڑ دیا، انھوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہر جڑی بوٹی ہر درو دیوار سے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کا زِیادہ مُستَحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیا جائے؟ اُنھوں نے کہنا شروع کیا، ’’ اَنَا لَاَحَق ‘‘(اَنا ۔لَ ۔ اَحَق)یعنی بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزاوار (یعنی حقدار)ہوں۔ لوگوں کے سُننے میں آیا ’’ اَنَا الْحَقّ ‘‘(یعنی میں حق ہوں)وہ (لوگ )دعوی ِ خدائی سمجھے ،اور یہ (یعنی خدائی کا دعویٰ) کفر ہے اور مسلمان ہو کر جوکفرکرے مُرتَدّ ہے اور مُرتَدّ کی سزا قتل ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج۲۶،ص۴۰۰)…علمیہ