Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
61 - 676
باب:10
عشق و محبت
محبت کی تعریف:
	محبت نام ہے پسندیدہ چیز کی طرف میلانِ طبع کا۔ اگر یہ میلان شدت اختیار کر جائے تو اسے عشق کہتے ہیں۔ اِس میں زیادتی ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ عاشق محبوب کا بندئہ بے دام بن جاتا ہے اور مال و دولت اس پر قربان کردیتا ہے۔ زلیخا کی مثال لے لیجئے جس نے یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی محبت میں اپنا حسن اور مال و دولت قربان کردیا، زلیخا کے پاس ستر اونٹوں کے بوجھ کے برابر جواہر اور موتی تھے جو عشقِ یوسف میں نثار کردئیے، جب بھی کوئی یہ کہہ دیتا کہ میں نے یوسف عَلَیْہِ السَّلَامکو دیکھا ہے تو وہ اسے بیش قیمت ہار دے دیتی یہاں تک کہ کچھ بھی باقی نہ رہا، اس نے ہر چیز کا نام یوسف رکھ چھوڑا تھا اور فرطِ محبت میں یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے سوا سب کچھ بھول گئی تھی، جب آسمان کی طرف دیکھتی تو اسے ہر ستارے میں یوسف(عَلَیْہِ السَّلَام ) کا نام نظر آتا تھا۔
	  کہتے ہیں کہ جب زلیخا ایمان لائی اور حضرتِ یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی زوجیت میں داخل ہوئی تو سوائے عبادت و ریاضت اور توجہ الی اللہ کے اسے کوئی کام نہ تھا، اگر یوسف عَلَیْہِ السَّلَام اسے دن کو اپنے پاس بلاتے تو کہتی رات کو آؤں گی اور رات کو بلاتے تو دن کا وعدہ کرتی۔ یوسف عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: زلیخا! تو تو میری محبت میں دیوانی تھی! جواب دیا: یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب میں آپ کی محبت کی ماہیت سے واقف نہ تھی، اب میں آپ کی محبت کی حقیقت پہچان چکی ہوں اس لئے اب میری محبت میں تمہاری شرکت بھی گوارا نہیں ۔ حضرتِ یوسف عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا :مجھے اللہ نے اس بات کا حکم فرمایا ہے اور مجھے بتلایا ہے کہ تیرے بطن سے اللہ تَعَالٰی دو بیٹے پیدا کرے گا اور دونوں کو نبوت سے سرفراز فرمایا جائے گا، زلیخا نے کہا: اگر حکم خداوندی ہے اور اس میں حکمت الٰہی ہے تو میں سر تسلیم خم کرتی ہوں ۔ 
مجنوں نے اپنا نام لیلیٰ بتلایا
	مجنوں سے کسی نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ بولا لیلیٰ! ایک دن اُس سے کسی نے کہا: کیا لیلیٰ مرگئی؟ مجنوں نے جواب