Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
60 - 676
حضرت شبلی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ سے محبت کا دعویٰ
	ایک جماعت حضرت شبلی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کے پاس آئی اور وہ لوگ کہنے لگے: ہم تم سے محبت کرتے ہیں ، آپ نے انہیں دیکھ کر پتھر مارے تو وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، آپ نے پوچھا: اگر تم واقعی مجھ سے محبت کرتے تھے تو میری طرف سے دی گئی اتنی سی تکلیف پر کیوں بھاگ گئے ہو؟ پھر شبلی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ نے فرمایا: اہلِ محبت نے الفت کا پیالہ پیا تو ان پر یہ وسیع زمین اور شہر تنگ ہوگئے، انہوں نے اللہ کو ایسے پہچانا جیسے پہچاننے کا حق ہے وہ اس کی عظمت میں سرگرداں اور اس کی قدرت میں حیران ہیں ، انہوں نے محبت کا جام پیا اور اس کی الفت کے سمندر میں ڈوب گئے اور اس کی بارگاہ میں مناجات سے شیرنی حاصل کی، پھر آپ نے یہ شعر پڑھا :   ؎
ذکرالمحبۃ یا مولای أسکرنی            وھل  رأیت  محبا  غیر سکران
٭…اے مولا تیری محبت کی یاد نے مجھے مدہوش کردیا، کیا تو نے کسی ایسے محب کو دیکھا ہے جو مدہوش نہ ہو۔
	کہتے ہیں کہ اونٹ جب مست ہوجاتا ہے تو چالیس دن تک گھاس وغیرہ نہیں کھاتا اور اگر اس پر پہلے سے دوگنا بوجھ لاددیاجائے تب بھی اسے اٹھالیتا ہے اس لئے کہ جب اس کا دل محبوب کی یاد میں تڑپتا ہو تو اسے نہ چارے کی خواہش ہوتی ہے نہ ہی وہ بھاری بوجھ اٹھانے سے گھبراتا ہے، جب اونٹ اپنے محبوب کی یاد میں اپنی خواہشات کوچھوڑ دیتا ہے اور بھاری بوجھ اٹھالیتا ہے تو کیا تم نے بھی کبھی اللہ تَعَالٰی کی رضا جوئی کے لئے اپنی ناجائز خواہشات کو چھوڑا ہے۔ کبھی کھانا پینا بند کیا ہے؟ کبھی اپنے وجود پر بارِ گراں ڈالا ہے؟ اگر تم نے ان مذکورہ بالا امور میں سے کوئی کام نہیں کیا تو تمہارا دعویٰ جھوٹا ہے جو تمہیں نہ دنیا میں فائدہ دے گا نہ آخرت میں ، نہ مخلوق کے نزدیک فائدہ مند ہے نہ خالق کے حضور میں۔ 
	حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہٗ فرماتے ہیں : جو جنت کا اُمیدوار ہوا اس نے نیکیوں میں جلدی کی، جو جہنم سے ڈرا اس نے خود کو ناجائز خواہشات سے روک دیا اور جسے موت کا یقین آگیا اس نے لذاتِ دنیا کو ختم کردیا۔
	حضرت ابراہیم خواص رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہسے محبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے کہا: محبت نام ہے ارادوں کوختم کردینے، تمام صفتوں اور حاجتوں کو مردہ کر دینے اور اپنے وجود کو اشارات کے سمندر میں غرق کردینے کا۔