Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
59 - 676
	اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے کعب بن اَشرف اور اس کے ساتھیوں کو دعوتِ اسلام دی تو وہ کہنے لگے: ہم تو اللہ تَعَالٰی کے بیٹوں کی طرح ہیں اور اس سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ تب اللہ تَعَالٰی نے اپنے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے کہا:’’ان سے کہہ دیجئے اگر تم اللہ تَعَالٰی سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔‘‘میں اللہ کا رسول ہوں میں تمہاری طرف اس کا پیغام پہنچانے والا اور تمہارے لیے اللہ کی حجت بن کر آیا ہوں میری اتباع کروگے تو ’’  اللہ تمہیں محبوب بنائے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا وہ غفور اور رحیم ہے۔‘‘
	مومنوں کی محبت اللہ کے ساتھ یہ ہے کہ وہ اس کے احکام پر عمل کریں ، اس کی عبادت کریں اور اس کی رضا کے طلبگار رہیں اور اللہ تَعَالٰی کی مومنوں کے ساتھ محبت یہ ہے کہ وہ ان کی تعریف کرے انہیں ثواب عطا فرمائے، ان کے گناہوں کو معاف کرے اور انہیں اپنی رحمت سے حسنِ توفیق، عفت و عصمت عطا فرمائے۔
	امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں : جو شخص چار چیزوں کے بغیر چار چیزوں کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے:
	{1}…جو جنت کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر نیکی نہیں کرتا۔
	{2}… جو شخص نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر علماء اور صلحاء کو دوست نہیں رکھتا۔
	{3}…جو آگ سے ڈرنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر گناہ نہیں چھوڑتا۔
	{4}…جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر تکالیف کی شکایت کرتا ہے جیسا کہ
	 حضرت رابعہ فرماتی ہیں :   
تعصی الالہ وانت تظھر حبہ		لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ھذا لعمری فی القیاس بدیع		ان المحب لمن یحب مطیع
{1}… تو اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی کرتا ہے حالانکہ بظاہر تو محبت ِ خداوندی کا دعویدار ہے، مجھے زندگی کی قسم! یہ انوکھی بات ہے۔
{2} …اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تو اس کی اطاعت کرتا کیونکہ محب جس سے محبت کرتا ہے اس کی اطاعت کرتا ہے۔
	اور محبت کی علامت محبوب کی موافقت کرنے اور اس کے خلاف نہ کرنے میں ہے۔