باب:9
محبت
کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے جنگل میں ایک صورتِ بد کو دیکھ کر پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا: میں تیرا بُرا عمل ہوں ، اس آدمی نے پوچھا: تجھ سے نجات کی بھی کوئی صورت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود پڑھنا۔ جیسا کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے :میرے اوپر درود پل صراط کے لئے نور ہے، جو مجھ پر جمعہ کے دن اسّی مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کے اسّی سال کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ (1)
درود نہ بھیجنے والے سے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا اِعراض
ایک آدمی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود شریف نہیں بھیجتا تھا، ایک رات اس نے خواب میں حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو دیکھا، آپ نے اس کی طرف توجہ نہ فرمائی، اس آدمی نے عرض کیا کہ کیا حضور مجھ سے ناراض ہیں اس لئے توجہ نہیں فرمائی؟ آپ نے جواب دیا: نہیں ! میں تمہیں پہچانتا ہی نہیں ہوں ، عرض کی گئی حضور مجھے کیسے نہیں پہچانتے حالانکہ علماء کہتے ہیں کہ آپ اپنے امتیوں کو ان کی ماں سے بھی زیادہ پہچانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: علماء نے سچ کہا ہے لیکن تو نے مجھے درود بھیج کر اپنی یاد نہیں دلائی، میرا کوئی امتی مجھ پر جتنا درود بھیجتا ہے میں اسے اتنا ہی پہچانتا ہوں ، اس شخص کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی اور اس نے روزانہ ایک سو مرتبہ درود پڑھنا شروع کردیا، کچھ مدت بعد حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے دیدار سے پھر خواب میں مشرف ہوا، آپ نے فرمایا :میں اب تجھے پہچانتا ہوں ا
۔ ور میں تیری شفاعت کروں گا اس لئے کہ وہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا محب بن گیا تھا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ (2)
اے رسول ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی (اطاعت) کرو اللہ تَعَالٰی تم کو دوست رکھے گا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الجامع الصغیر، ص۳۲۰، الحدیث۵۱۹۱
2…ترجمۂکنزالایمان:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کودوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گااور
تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ۳،اٰلِ عمران: ۳۱)